‌صحيح البخاري - حدیث 2399

كِتَابُ فِي الِاسْتِقْرَاضِ وَأَدَاءِ الدُّيُونِ وَالحَجْرِ وَالتَّفْلِيسِ بَابُ الصَّلاَةِ عَلَى مَنْ تَرَكَ دَيْنًا صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَأَنَا أَوْلَى بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوا وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِي فَأَنَا مَوْلَاهُ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2399

کتاب: قرض لینے، ادا کرنے ، حجر اور مفلسی منظور کرنے کے بیان میں باب : قرض دار کی نماز جنازہ کا بیان ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عبدالرحمن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہر مومن کا میں دنیا و آخرت میں سب سے زیادہ قریب ہوں۔ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ” نبی مومنوں سے ان کی جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔ “ اس لیے جو مومن بھی انتقال کر جائے اور مال چھوڑ جائے تو چاہئے کہ ورثاءاس کے مالک ہوں۔ وہ جو بھی ہوں اور جو شخص قرض چھوڑ جائے یا اولاد چھوڑ جائے تو وہ میرے پاس آجائیں کہ ان کا ولی میں ہوں۔
تشریح : یعنی اس کے بال بچوں کی پرورش کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی بیت المال میں سے یہ خرچہ دیا جائے گا۔ سبحان اللہ ! اس سے زیادہ شفقت اور عنایت کیا ہوگی۔ جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت سے تھی۔ باپ بھی بیٹے پر اتنا مہربان نہیں ہوتا جتنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلمانوں پر مہربانی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان سب برابر کے شریک تھے اور بیت المال یعنی خزانہ ملک سارے مسلمانوں کا حصہ تھا۔ یہ نہیں کہ وہ بادشاہ کا ذاتی سمجھا جائے کہ جس طرح چاہئے، اپنی خواہشوں میں اس کو اڑائے اور مسلمان فاقے مرتے رہیں۔ جیسے ہمارے زمانے میں عموماً مسلمان رئیسوں اور نوابوں کا حال ہے اللہ ان کو ہدایت کرے۔ النبی اولی بالمومنین من انفسہم ( الاحزاب : 6 ) یعنی جتنا ہر مومن خود اپنی جان پر آپ مہربان ہوتا ہے اس سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مہربان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی گناہ اور کفر کرکے اپنے تئیں ہلاکت ابدی میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بچانا چاہتے ہیں۔ اور فلاح ابدی کی طرف لے جانا۔ اس لیے آپ ہر مومن پر خود اس کے نفس سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جو نادار غریب مسلمان بحالت قرض انتقال کر جائیں، بات المال سے ان کے قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔ بیت المال سے وہ خزانہ مراد ہے جو اسلامی خلافت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ جن میں اموال غنائم، اموال زکوٰۃ اور دیگر قسم کی اسلامی آمدنیاں جمع ہوتی ہیں۔ اس بیت المال کا ایک مصرف نادار غریب مساکین کے قرضوں کی ادائیگی بھی ہے۔ یعنی اس کے بال بچوں کی پرورش کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ یعنی بیت المال میں سے یہ خرچہ دیا جائے گا۔ سبحان اللہ ! اس سے زیادہ شفقت اور عنایت کیا ہوگی۔ جو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت سے تھی۔ باپ بھی بیٹے پر اتنا مہربان نہیں ہوتا جتنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلمانوں پر مہربانی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان سب برابر کے شریک تھے اور بیت المال یعنی خزانہ ملک سارے مسلمانوں کا حصہ تھا۔ یہ نہیں کہ وہ بادشاہ کا ذاتی سمجھا جائے کہ جس طرح چاہئے، اپنی خواہشوں میں اس کو اڑائے اور مسلمان فاقے مرتے رہیں۔ جیسے ہمارے زمانے میں عموماً مسلمان رئیسوں اور نوابوں کا حال ہے اللہ ان کو ہدایت کرے۔ النبی اولی بالمومنین من انفسہم ( الاحزاب : 6 ) یعنی جتنا ہر مومن خود اپنی جان پر آپ مہربان ہوتا ہے اس سے زیادہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر مہربان ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی گناہ اور کفر کرکے اپنے تئیں ہلاکت ابدی میں ڈالنا چاہتا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کو بچانا چاہتے ہیں۔ اور فلاح ابدی کی طرف لے جانا۔ اس لیے آپ ہر مومن پر خود اس کے نفس سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ جو نادار غریب مسلمان بحالت قرض انتقال کر جائیں، بات المال سے ان کے قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔ بیت المال سے وہ خزانہ مراد ہے جو اسلامی خلافت کی تحویل میں ہوتا ہے۔ جن میں اموال غنائم، اموال زکوٰۃ اور دیگر قسم کی اسلامی آمدنیاں جمع ہوتی ہیں۔ اس بیت المال کا ایک مصرف نادار غریب مساکین کے قرضوں کی ادائیگی بھی ہے۔