‌صحيح البخاري - حدیث 2368

كِتَابُ المُسَاقَاةِ بَابُ مَنْ رَأَى أَنَّ صَاحِبَ الحَوْضِ وَالقِرْبَةِ أَحَقُّ بِمَائِهِ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ وَكَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُ اللَّهُ أُمَّ إِسْمَاعِيلَ لَوْ تَرَكَتْ زَمْزَمَ أَوْ قَالَ لَوْ لَمْ تَغْرِفْ مِنْ الْمَاءِ لَكَانَتْ عَيْنًا مَعِينًا وَأَقْبَلَ جُرْهُمُ فَقَالُوا أَتَأْذَنِينَ أَنْ نَنْزِلَ عِنْدَكِ قَالَتْ نَعَمْ وَلَا حَقَّ لَكُمْ فِي الْمَاءِ قَالُوا نَعَمْ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2368

کتاب: مساقات کے بیان میں باب : جن کے نزدیک حوض والا اور مشک کا مالک ہی اپنے پانی کا زیادہ حق دار ہے ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ایوب اور کثیر بن کثیر نے، دونوں کی روایتوں میں ایک دوسرے کی بہ نسبت کمی اور زیادتی ہے، اور ان سے سعید بن جبیر نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ( حضرت ہاجرہ علیہا السلام ) پر اللہ رحم فرمائے کہ اگر انہوں نے زمزم کو چھوڑ دیا ہوتا، یا یوں فرمایا کہ اگر وہ زم زم سے چلو بھر بھرکر نہ لیتیں تو وہ ایک بہتا چشمہ ہوتا۔ پھر جب قبیلہ جرہم کے لو گ آئے اور ( حضرت ہاجرہ علیہا السلام سے ) کہا کہ آپ ہمیں اپنے پڑوس میں قیام کی اجازت دیں تو انہوں نے اسے قبول کر لیا اس شرط پر کہ پانی پر ان کا کوئی حق نہ ہوگا۔ قبیلہ والوں نے یہ شرط مان لی تھی۔
تشریح : حدیث ہذا میں حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جب کہ وہ ابتدائی دور میں مکہ شریف میں سکونت پذیر ہوئی تھیں۔ جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو حوالہ بخدا کرکے واپس ہو چکے تھے اور وہ پانی کی تلاش میں کوہ صفا اور مروہ کا چکر کاٹ رہی تھیں۔ کہ اچانک ان کو زمزم کا چشمہ نظر آیا۔ اور وہ دوڑ کر اس کے پاس آئیں اور اس کے پانی کے ارد گرد منڈیر لگانا شروع کر دیا۔ اسی کیفیت کا یہاں بیان کیا جارہا ہے۔ مجتہد مطلق اس حدیث کو یہاں یہ مسئلہ بیان فرمانے کے لیے لائے ہیں کہ کنویں یا تالاب کا اصل مالک اگر موجود ہے تو بہرحال اس کی ملکیت کا حق اس کے لیے ثابت ہے۔ ترجمہ باب اس سے نکلا کہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے اس قول پر کہ پانی پر تمہارا ( قبیلہ بنوجرہم کا ) کوئی حق نہ ہوگا، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار نہیں فرمایا۔ خطابی نے کہا اس سے یہ نکلا کہ جنگل میں جو کوئی پانی نکالے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ اور دوسرا کوئی اس میں اس کی رضا مندی کے بغیر شریک نہیں ہوسکتا۔ ہاجرہ علیہا السلام ایک فرعون مصر کی بیٹی تھی۔ جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی حضرت سارہ علیہا السلام کی کرامات دیکھ کر اس نے اس مبارک خاندان میں شرکت کا فخر حاصل کرنے کی غرض سے ان کے حوالہ کر دیا تھا۔ اس کا تفصیلی بیان پیچھے گزر چکا ہے۔ حدیث ہذا میں حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے ان واقعات کی طرف اشارہ ہے جب کہ وہ ابتدائی دور میں مکہ شریف میں سکونت پذیر ہوئی تھیں۔ جب کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کو حوالہ بخدا کرکے واپس ہو چکے تھے اور وہ پانی کی تلاش میں کوہ صفا اور مروہ کا چکر کاٹ رہی تھیں۔ کہ اچانک ان کو زمزم کا چشمہ نظر آیا۔ اور وہ دوڑ کر اس کے پاس آئیں اور اس کے پانی کے ارد گرد منڈیر لگانا شروع کر دیا۔ اسی کیفیت کا یہاں بیان کیا جارہا ہے۔ مجتہد مطلق اس حدیث کو یہاں یہ مسئلہ بیان فرمانے کے لیے لائے ہیں کہ کنویں یا تالاب کا اصل مالک اگر موجود ہے تو بہرحال اس کی ملکیت کا حق اس کے لیے ثابت ہے۔ ترجمہ باب اس سے نکلا کہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے اس قول پر کہ پانی پر تمہارا ( قبیلہ بنوجرہم کا ) کوئی حق نہ ہوگا، اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار نہیں فرمایا۔ خطابی نے کہا اس سے یہ نکلا کہ جنگل میں جو کوئی پانی نکالے وہ اس کا مالک بن جاتا ہے۔ اور دوسرا کوئی اس میں اس کی رضا مندی کے بغیر شریک نہیں ہوسکتا۔ ہاجرہ علیہا السلام ایک فرعون مصر کی بیٹی تھی۔ جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی حضرت سارہ علیہا السلام کی کرامات دیکھ کر اس نے اس مبارک خاندان میں شرکت کا فخر حاصل کرنے کی غرض سے ان کے حوالہ کر دیا تھا۔ اس کا تفصیلی بیان پیچھے گزر چکا ہے۔