كِتَابُ المُسَاقَاةِ بَابُ مَنْ رَأَى أَنَّ صَاحِبَ الحَوْضِ وَالقِرْبَةِ أَحَقُّ بِمَائِهِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَذُودَنَّ رِجَالًا عَنْ حَوْضِي كَمَا تُذَادُ الْغَرِيبَةُ مِنْ الْإِبِلِ عَنْ الْحَوْضِ
کتاب: مساقات کے بیان میں
باب : جن کے نزدیک حوض والا اور مشک کا مالک ہی اپنے پانی کا زیادہ حق دار ہے
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے محمد بن زیاد نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میں ( قیامت کے دن ) اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو اس طرح ہانک دوں گا جیسے اجنبی اونٹ حوض سے ہانک دیئے جاتے ہیں۔
تشریح :
یہیں سے باب کا مطابقت نکلتا ہے۔ کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوض والے پر انکار نہیں کیا، اس امر پر کہ وہ جانوروں کو اپنے حوض سے ہانک دیتا ہے۔
یہیں سے باب کا مطابقت نکلتا ہے۔ کیوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوض والے پر انکار نہیں کیا، اس امر پر کہ وہ جانوروں کو اپنے حوض سے ہانک دیتا ہے۔