‌صحيح البخاري - حدیث 2366

كِتَابُ المُسَاقَاةِ بَابُ مَنْ رَأَى أَنَّ صَاحِبَ الحَوْضِ وَالقِرْبَةِ أَحَقُّ بِمَائِهِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحٍ فَشَرِبَ وَعَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ هُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ وَالْأَشْيَاخُ عَنْ يَسَارِهِ قَالَ يَا غُلَامُ أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أُعْطِيَ الْأَشْيَاخَ فَقَالَ مَا كُنْتُ لِأُوثِرَ بِنَصِيبِي مِنْكَ أَحَدًا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2366

کتاب: مساقات کے بیان میں باب : جن کے نزدیک حوض والا اور مشک کا مالک ہی اپنے پانی کا زیادہ حق دار ہے ہم سے قتیبہ نے بیان کیا کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ پیش کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا۔ آپ کی دائیں طرف ایک لڑکا تھا جو حاضرین میں سب سے کم عمر تھا۔ بڑی عمر والے صحابہ آپ کی بائیں طرف تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے لڑکے ! کیا تمہاری اجازت ہے کہ میں اس پیالے کا بچا ہوا پانی بوڑھوں کو دوں؟ اس نے جواب دیا، یا رسول اللہ ! میں تو آپ کا جھوٹا اپنے حصہ کا کسی کو دینے والا نہیں ہوں۔ آخر آپ نے وہ پیالہ اسی کو دے دیا۔
تشریح : ترجمہ باب سے مطلب اس طرح ہے کہ حوض اور مشک کو پیالے پر قیاس کیا۔ ابن منیر نے کہا وجہ مناسبت یہ ہے کہ جب داہنی طرف بیٹھنے والا پیالہ کا زیادہ حق دار ہوا صرف داہنی طرف بیٹھنے کی وجہ سے تو جس نے حوض بنایا، مشک تیار کیا، وہ بطریق اولیٰ پہلے اس کے پانی کا حق دار ہوگا۔ ترجمہ باب سے مطلب اس طرح ہے کہ حوض اور مشک کو پیالے پر قیاس کیا۔ ابن منیر نے کہا وجہ مناسبت یہ ہے کہ جب داہنی طرف بیٹھنے والا پیالہ کا زیادہ حق دار ہوا صرف داہنی طرف بیٹھنے کی وجہ سے تو جس نے حوض بنایا، مشک تیار کیا، وہ بطریق اولیٰ پہلے اس کے پانی کا حق دار ہوگا۔