‌صحيح البخاري - حدیث 2364

كِتَابُ المُسَاقَاةِ بَابُ فَضْلِ سَقْيِ المَاءِ صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةَ الْكُسُوفِ فَقَالَ دَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا مَعَهُمْ فَإِذَا امْرَأَةٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ قَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2364

کتاب: مساقات کے بیان میں باب : پانی پلانے کے ثواب کا بیان ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملکیہ نے اور ان سے اسماءبنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ سورج گرہن کی نماز پڑھی پھر فرمایا ( ابھی ابھی ) دوزخ مجھ سے قریب آگئی تھی کہ میں نے چونک کر کہا۔ اے رب ! کیا میں بھی انہیں میں سے ہوں۔ اتنے میں دوزح میں میری نظر ایک عورت پڑی۔ ( اسماءرضی اللہ عنہا نے بیان کیا ) مجھے یاد ہے کہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ) اس عورت کو ایک بلی نوچ رہی تھی۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ اس پر اس عذاب کی کیا وجہ ہے؟ آپ کے ساتھ والے فرشتوں نے کہا کہ اس عورت نے اس بلی کو اتنی دیر تک باندھے رکھا کہ وہ بھوک کے مارے مر گئی۔
تشریح : اس حدیث کو یہاں لانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی بھی جاندار کو باوجود قدرت اور آسانی کے اگر کوئی شخص کھانا پانی نہ دے اور وہ جاندار بھوک پیاس کی وجہ سے مر جائے تو اس شخص کے لیے یہ جرم دوزح میں جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان ہذہ المراۃ لما حبست ہذہ الہرۃ الی ان ماتت بالجوع و العطش فاستحقت ہذہ العذاب فلو کانت سقیتہا لم تغذب و من ہہنا یعلم فضل سقی الماءو ہو مطابق للترجمۃ ( عینی ) اس حدیث کو یہاں لانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی بھی جاندار کو باوجود قدرت اور آسانی کے اگر کوئی شخص کھانا پانی نہ دے اور وہ جاندار بھوک پیاس کی وجہ سے مر جائے تو اس شخص کے لیے یہ جرم دوزح میں جانے کا سبب بن سکتا ہے۔ ان ہذہ المراۃ لما حبست ہذہ الہرۃ الی ان ماتت بالجوع و العطش فاستحقت ہذہ العذاب فلو کانت سقیتہا لم تغذب و من ہہنا یعلم فضل سقی الماءو ہو مطابق للترجمۃ ( عینی )