‌صحيح البخاري - حدیث 2352

كِتَابُ المُسَاقَاةِ بَابٌ فِي الشُّرْبِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهَا حُلِبَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ دَاجِنٌ وَهِيَ فِي دَارِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَشِيبَ لَبَنُهَا بِمَاءٍ مِنْ الْبِئْرِ الَّتِي فِي دَارِ أَنَسٍ فَأَعْطَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ مِنْ فِيهِ وَعَلَى يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ عُمَرُ وَخَافَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَكَ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ الَّذِي عَلَى يَمِينِهِ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2352

کتاب: مساقات کے بیان میں باب : کھیتوں اور باغوں کے لیے پانی میں سے اپنا حصہ لینا ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے گھر میں پلی ہوئی ایک بکری کا دودھ دوہا گیا، جو انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہی کے گھر میں پلی تھی۔ پھر اس کے دودھ میں اس کنویں کا پانی ملا کر جو انس رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کا پیالہ پیش کیا گیا۔ آپ نے اسے پیا۔ جب اپنے منہ سے پیالہ آپ نے جدا کیا تو بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور دائیں طرف ایک دیہاتی تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ ڈرے کہ آپ یہ پیالہ دیہاتی کو نہ دے دیں۔ اس لیے انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ابوبکر ( رضی اللہ عنہ ) کو دے دیجئے۔ آپ نے پیالہ اسی دیہاتی کو دیا جو آپ کی دائیں طرف تھا۔ اور فرمایا کہ دائیں طرف والا زیادہ حق دار ہے۔ پھر وہ جو اس کی داہنی طرف ہو۔
تشریح : اس حدیث سے بھی پانی کا تقسیم یا ہبہ کرنا ثابت ہوا۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اسلام میں حق کے مقابلہ پر کسی کے لیے رعایت نہیں ہے۔ کوئی کتنی ہی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو۔ حق اس سے بھی بڑا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بزرگی میں کس کو شک ہو سکتا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ نے آپ کو نظر انداز فرما کر دیہاتی کو وہ پانی دیا اس لیے کہ قانون دیہاتی ہی کے حق میں تھا۔ امام عادل کی یہی شان ہونی چاہئیے۔ اور اعدلوا ہو اقرب للتقوی ( المائدۃ : 8 ) کا بھی یہی مطلب ہے۔ یہاں اس دیہاتی سے اجازت بھی نہیں لی گئی جیسے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لی گی تھی۔ اس ڈر سے کہ کہیں دیہاتی بد دل نہ ہوجائے۔ اس حدیث سے بھی پانی کا تقسیم یا ہبہ کرنا ثابت ہوا۔ اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اسلام میں حق کے مقابلہ پر کسی کے لیے رعایت نہیں ہے۔ کوئی کتنی ہی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو۔ حق اس سے بھی بڑا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بزرگی میں کس کو شک ہو سکتا ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ نے آپ کو نظر انداز فرما کر دیہاتی کو وہ پانی دیا اس لیے کہ قانون دیہاتی ہی کے حق میں تھا۔ امام عادل کی یہی شان ہونی چاہئیے۔ اور اعدلوا ہو اقرب للتقوی ( المائدۃ : 8 ) کا بھی یہی مطلب ہے۔ یہاں اس دیہاتی سے اجازت بھی نہیں لی گئی جیسے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے لی گی تھی۔ اس ڈر سے کہ کہیں دیہاتی بد دل نہ ہوجائے۔