‌صحيح البخاري - حدیث 2349

كِتَابُ المُزَارَعَةِ بَابُ مَا جَاءَ فِي الغَرْسِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ إِنَّا كُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ سِلْقٍ لَنَا كُنَّا نَغْرِسُهُ فِي أَرْبِعَائِنَا فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ لَهَا فَتَجْعَلُ فِيهِ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ لَا أَعْلَمُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِيهِ شَحْمٌ وَلَا وَدَكٌ فَإِذَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ زُرْنَاهَا فَقَرَّبَتْهُ إِلَيْنَا فَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَمَا كُنَّا نَتَغَدَّى وَلَا نَقِيلُ إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2349

کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان باب : درخت بونے کا بیان ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ جمعہ کے دن ہمیں بہت خوشی ( اس بات کی ) ہوتی تھی کہ ہماری ایک بوڑھی عورت تھیں جو اس چقندر کو اکھاڑ لاتیں جسے ہم اپنے باغ کی مینڈوں پر بو دیا کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی ہانڈی میں پکاتیں اوراس میں تھوڑے سے جو بھی ڈال دیتیں۔ ابوحازم نے کہا میں نہیں جانتا کہ سہل نے یوں کہا نہ اس میں چربی ہوتی نہ چکنائی۔ پھر جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ وہ اپنا پکوان ہمارے سامنے کر دیتیں۔ اس لیے ہمیں جمعہ کے دن کی خوشی ہوتی تھی۔ اور ہم دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔
تشریح : صحابہ کرام کا اپنے باغوں کی مینڈوں پر چقندر لگانا مذکور ہے۔ اسی سے باب کا مضمون ثابت ہوا نیز اس بوڑھی اماں کا جذبہ خدمت قابل رشک ثابت ہوا۔ جو اصحاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضیافت کے لیے اتنا اہتمام کرتی اور ہر جمعہ کو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاں مدعو فرماتی تھی۔ چقندر اورجو، ہر دو کا مخلوط دلیہ جو تیار ہوتا اس کی لذت اور لطافت کا کیا کہنا۔ بہرحال حدیث سے بہت سے مسائل کا استنباط ہوتا ہے۔ یہ بھی کہ جمعہ کے دن مسنون ہے کہ دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کی نماز کے بعد کیا جائے۔ خواتین کا بوقت ضرورت اپنے کھیتوں پر جانا بھی ثابت ہوا۔ مگر پردہ شرعی ضروری ہے۔ صحابہ کرام کا اپنے باغوں کی مینڈوں پر چقندر لگانا مذکور ہے۔ اسی سے باب کا مضمون ثابت ہوا نیز اس بوڑھی اماں کا جذبہ خدمت قابل رشک ثابت ہوا۔ جو اصحاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضیافت کے لیے اتنا اہتمام کرتی اور ہر جمعہ کو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ہاں مدعو فرماتی تھی۔ چقندر اورجو، ہر دو کا مخلوط دلیہ جو تیار ہوتا اس کی لذت اور لطافت کا کیا کہنا۔ بہرحال حدیث سے بہت سے مسائل کا استنباط ہوتا ہے۔ یہ بھی کہ جمعہ کے دن مسنون ہے کہ دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کی نماز کے بعد کیا جائے۔ خواتین کا بوقت ضرورت اپنے کھیتوں پر جانا بھی ثابت ہوا۔ مگر پردہ شرعی ضروری ہے۔