‌صحيح البخاري - حدیث 2348

كِتَابُ المُزَارَعَةِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمًا يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ فَقَالَ لَهُ أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ قَالَ فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ فَيَقُولُ اللَّهُ دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2348

کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان باب ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ( دوسری سند ) اور ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عطاءبن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیان فرما رہے تھے.... ایک دیہاتی بھی مجلس میں حاضر تھا .... کہ اہل جنت میں سے ایک شخص اپنے رب سے کھیتی کرنے کی اجازت چاہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا اپنی موجودہ حالت پر تو راضی نہیں ہے؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ! لیکن میرا جی کھیتی کرنے کو چاہتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس نے بیج ڈالا۔ پلک جھپکنے میں وہ اگ بھی آیا۔ پک بھی گیا اور کاٹ بھی لیا گیا۔ اور اس کے دانے پہاڑوں کی طرح ہوئے۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم ! اسے رکھ لے، تجھے کوئی چیز آسودہ نہ نہیں کرسکتی۔ یہ سن کر دیہاتی نے کہا کہ قسم خدا کی وہ تو کوئی قریشی یا انصاری ہی ہوگا۔ کیوں کہ یہی لوگ کھیتی کرنے والے ہیں۔ ہم تو کھیتی ہی نہیں کرتے۔ اس با ت پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آگئی۔
تشریح : حقیقت میں آدمی ایسا ہی حریص ہے۔ کتنی بھی دولت اور راحت ہو، وہ اس پر قناعت نہیں کرتا۔ زیادہ طلبی اس کے خمیر میں ہے۔ اسی طرح تلون مزاجی، حالانکہ جنت میں سب کچھ موجود ہوگا۔ پھر بھی کچھ لوگ کھیتی کی خواہش کریں گے، اللہ پاک اپنے فضل سے ان کی یہ خواہش بھی پوری کر دے گا۔ جیسا کہ راویت مذکور میں ہے۔ جو اپنے معانی اور مطالب کے لحاظ سے حقائق پر مبنی ہے۔ حقیقت میں آدمی ایسا ہی حریص ہے۔ کتنی بھی دولت اور راحت ہو، وہ اس پر قناعت نہیں کرتا۔ زیادہ طلبی اس کے خمیر میں ہے۔ اسی طرح تلون مزاجی، حالانکہ جنت میں سب کچھ موجود ہوگا۔ پھر بھی کچھ لوگ کھیتی کی خواہش کریں گے، اللہ پاک اپنے فضل سے ان کی یہ خواہش بھی پوری کر دے گا۔ جیسا کہ راویت مذکور میں ہے۔ جو اپنے معانی اور مطالب کے لحاظ سے حقائق پر مبنی ہے۔