‌صحيح البخاري - حدیث 2342

كِتَابُ المُزَارَعَةِ بَابُ مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يُوَاسِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الزِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ صحيح حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ ذَكَرْتُهُ لِطَاوُسٍ فَقَالَ يُزْرِعُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَنْهَ عَنْهُ وَلَكِنْ قَالَ أَنْ يَمْنَحَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا مَعْلُومًا

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2342

کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان باب : نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام کھیتی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کس طرح کرتے تھے ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے اس کا ( یعنی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کا ) ذکر طاؤس سے کیا تو انہوں نے فرمایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا۔ البتہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ اپنے کسی بھائی کو زمین بخشش کے طور پر دے دینا اس سے بہتر ہے کہ اس پر کوئی محصول لے۔ ( یہ اس صورت میں کہ زمیندار کے پاس فالتو زمین بیکار پڑی ہو )