كِتَابُ المُزَارَعَةِ بَابُ مَا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ يُوَاسِي بَعْضُهُمْ بَعْضًا فِي الزِّرَاعَةِ وَالثَّمَرَةِ صحيح حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانُوا يَزْرَعُونَهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ
کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان باب : نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام کھیتی باڑی میں ایک دوسرے کی مدد کس طرح کرتے تھے ہم سے عبید اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی، اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ تہائی، چوتھائی یا نصف پر بٹائی کا معاملہ کیا کرتے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کے پاس زمین ہو تو اسے خود بوئے ورنہ دوسروں کو بخش دے۔ اگر یہ بھی نہیں کر سکتا تو اسے یوں ہی خالی چھوڑ دے۔