كِتَابُ المُزَارَعَةِ بَابٌ صحيح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّيْلَةَ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي وَهُوَ بِالْعَقِيقِ أَنْ صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ وَقُلْ عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ
کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان
باب
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعیب بن اسحاق نے خبر دی، ان سے امام اوزاعی نے بیان کیا کہ مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رات میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا فرشتہ آیا۔ آپ اس وقت وادی عقیق میں قیام کئے ہوئے تھے۔ ( اور اس نے یہ پیغام پہنچایا کہ ) اس مبارک وادی میں نماز پڑھ اور کہا کہ کہہ دیجئے ! عمرہ حج میں شریک ہو گیا۔
تشریح :
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلہ کو مزید واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بنجر اور غیر آباد زمین پر جو کسی کی بھی ملکیت نہ ہو، ہل چلانے والا اس کا مالک بن جاتا ہے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی عقیق میں قیام فرمایا جو کسی کی ملکیت نہ تھی۔ اس لیے یہ وادی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کرنے کی جگہ بن گئی، بالکل اسی طرح غیر آباد اور ناملکیت زمین کا آباد کرنے والا اس کا مالک بن جاتا ہے۔ آج کل چونکہ زمین کا چپہ چپہ ہر ملک کی حکومت کی ملکیت مانا گیا ہے اس لیے ایسی زمینات کے لیے حکومت کی اجازت ضروری ہے۔
مجتہد مطلق حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس مسئلہ کو مزید واضح کرنا چاہتے ہیں کہ بنجر اور غیر آباد زمین پر جو کسی کی بھی ملکیت نہ ہو، ہل چلانے والا اس کا مالک بن جاتا ہے کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی عقیق میں قیام فرمایا جو کسی کی ملکیت نہ تھی۔ اس لیے یہ وادی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قیام کرنے کی جگہ بن گئی، بالکل اسی طرح غیر آباد اور ناملکیت زمین کا آباد کرنے والا اس کا مالک بن جاتا ہے۔ آج کل چونکہ زمین کا چپہ چپہ ہر ملک کی حکومت کی ملکیت مانا گیا ہے اس لیے ایسی زمینات کے لیے حکومت کی اجازت ضروری ہے۔