كِتَابُ المُزَارَعَةِ بَابُ إِذَا زَرَعَ بِمَالِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، وَكَانَ فِي ذَلِكَ صَلاَحٌ لَهُمْ صحيح حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ أَخَذَهُمْ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنْ الْجَبَلِ فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا عَنْكُمْ قَالَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ بَنِيَّ وَإِنِّي اسْتَأْخَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ فَوَجَدْتُهُمَا نَامَا فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فَرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ فَفَرَجَ اللَّهُ فَرَأَوْا السَّمَاءَ وَقَالَ الْآخَرُ اللَّهُمَّ إِنَّهَا كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ فَطَلَبْتُ مِنْهَا فَأَبَتْ عَلَيَّ حَتَّى أَتَيْتُهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ فَبَغَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُهَا فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا قَالَتْ يَا عَبْدَ اللَّهِ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَقُمْتُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَرْجَةً فَفَرَجَ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ قَالَ أَعْطِنِي حَقِّي فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ فَرَغِبَ عَنْهُ فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا فَجَاءَنِي فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ فَقُلْتُ اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرُعَاتِهَا فَخُذْ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي فَقُلْتُ إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ فَخُذْ فَأَخَذَهُ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ فَفَرَجَ اللَّهُ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ فَسَعَيْتُ
کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان
باب : جب کسی کے مال سے ان کی اجازت بغیر ہی کاشت کی اوراس میں ان کا ہی فائدہ رہا ہو
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تین آدمی کہیں چلے جارہے تھے کہ بارش نے ان کو آلیا۔ تینوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لے لی، اچانک اوپر سے ایک چٹان غار کے سامنے آگری، اور انہیں ( غار کے اندر ) بالکل بند کر دیا۔ اب ان میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ تم لوگ اب اپنے ایسے کاموں کو یاد کرو۔ جنہیں تم نے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہو اور اسی کام کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ ممکن ہے اس طرح اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو ٹال دے، چنانچہ ایک شخص نے دعا شروع کی۔ اے اللہ ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں ان کے لیے ( جانور ) چرایا کرتا تھا۔ پھر جب واپس ہوتا تو دودھ دوہتا۔ سب سے پہلے، اپنی اولاد سے بھی پہلے، میں والدین ہی کو دودھ پلاتا تھا۔ ایک دن دیر ہو گئی اور رات گئے تک گھر واپس آیا، اس وقت میرے ماں باپ سو چکے تھے۔ میں نے معمول کے مطابق دودھ دوہا اور ( اس کا پیالہ لے کر ) میں ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں۔ لیکن اپنے بچوں کو بھی ( والدین سے پہلے ) پلانا مجھے پسند نہیں تھا۔ بچے صبح تک میرے قدموں پر پڑے تڑپتے رہے۔ پس اگر تیرے نزدیک بھی میرا یہ عمل صرف تیری رضا کے لیے تھا تو ( غار سے اس چٹان کو ہٹا کر ) ہمارے لیے اتنا راستہ بنا دے کہ آسمان نظر آسکے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے راستہ بنا دیا اور انہیں آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے نے کہا اے اللہ ! میری ایک چچازاد بہن تھی۔ مرد عورتوں سے جس طرح کی انتہائی محبت کرسکتے ہیں، مجھے اس سے اتنی ہی محبت تھی۔ میں نے اسے اپنے پاس بلانا چاہا لیکن وہ سو دینار دینے کی صورت راضی ہوئی۔ میں نے کوشش کی اور وہ رقم جمع کی۔ پھر جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان بیٹھ گیا، تو اس نے مجھ سے کہا، اے اللہ کے بندے ! اللہ سے ڈر اور اس کی مہر کو حق کے بغیر نہ توڑ۔ میں یہ سنتے ہی دور ہو گیا، اگر میرا یہ عمل تیرے علم میں بھی تیری رضا ہی کے لیے تھا تو ( اس غار سے ) پتھر کو ہٹا دے۔ پس غار کا منہ کچھ اور کھلا۔ اب تیسرا بولا کہ اے اللہ ! میں نے ایک مزدور تین فرق چاول کی مزدوری پر مقرر کیا تھا جب اس نے اپنا کام پورا کر لیا تو مجھ سے کہا کہ اب میری مزدوری مجھے دے دے۔ میں نے پیش کر دی لیکن اس وقت وہ انکار کر بیٹھا۔ پھر میں برابر اس کی اجرت سے کاشت کرتا رہا اور اس کے نتیجہ میں بڑھنے سے بیل اور چرواہے میرے پاس جمع ہو گئے۔ اب وہ شخص آیا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر ! میں نے کہا کہ بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جا اور اسے لے لے۔ اس نے کہا اللہ سے ڈر ! اور مجھ سے مذاق نہ کر، میں نے کہا کہ مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ ( یہ سب تیرا ہی ہے ) اب اسے لے جاؤ۔ پس اس نے ان سب پر قبضہ کر لیا۔ الٰہی ! اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیری خوشنودی ہی کے لی کیا تھا تو تو اس غار کو کھول دے۔ اب وہ غار پورا کھل چکا تھا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ علیہ ) نے کہا کہ ابن عقبہ نے نافع سے ( اپنی روایت میں فبغیت کے بجائے ) فسعیت نقل کیا ہے۔
تشریح :
دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ یعنی میں نے محنت کرکے سوا اشرفیاں جمع کیں۔ ابن عقبہ کی روایت کو خود امام بخاری نے کتاب الادب میں وصل کیا ہے۔
تشریح : اس حدیث طویل کے ذیل میں حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں : اورد فیہ حدیث الثلاثۃ الذین انطبق علیہم الغار و سیاتی القول فی شرحہ فی احادیث الانبیاءو المقصود ہنا قول احد الثلاثۃ فعرضت علیہ ای علی الاجیر حقہ فرغب عنہ فلم ازل ازرعہ حتی جمعت منہا بقرا ورعاتہا فان الظاہر انہ عین لہ اجرتہ فلما ترکہا بعد ان تعینت لہ ثم تصرف فیہا السمتاجر بعینہا صارت من ضمانہ قال بن المنیر مطابقۃ الترجمۃ انہ قد عین لہ حقہ و مکنہ منہ فبرئت ذمتہ بذلک فلما ترکہ وضع المستاجر یدہ علیہ وضعا مستانفا ثم تصرف فیہ بطریق الاصلاح لا بطریق التضییع فاغتفر ذلک و لم یعد تعد یا و لذلک توسل بہ الی اللہ عزوجل و جعلہ من افضل اعمالہ و اقر علی ذلک ووقعت لہ الاجابۃ الخ ( فتح الباری )
یعنی اس جگہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان تین اشخاص والی حدیث کو نقل فرمایا جن کو غار نے چھپا لیا تھا، اس کی پوری شرح کتاب احادیث الانبیاءمیں آئے گی۔ یہاں مقصود ان تینوں میں سے اس ایک شخص کا قول ہے جس نے کہا تھا کہ میں نے اپنے مزدور کو اس کا پورا حق دینا چاہا۔ لیکن اس نے انکار کر دیا۔ پس اس نے اس کی کاشت شروع کر دی، یاں تک کہ اس نے اس کی آمد سے بیل اوراس کی لیے ہالی خرید لئے۔ پس ظاہر ہے کہ اس نے اس مزدور کی اجرت مقرر کر رکھی تھی مگر اس نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر اس مالک نے اپنی ذمہ داری پر اسے کاروبار میں لگایا۔ ابن منیر نے کہا کہ مطابقت یوں ہے کہ اس باغ والے نے اس کی اجرت مقرر کر دی اور اس کو دی۔ مگر اس مزدور نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر اس شخص نے اصلاح اور ترقی کی نیت سے اسے بڑھانا شروع کر دیا۔ اسی نیت خیر کی وجہ سے اس نے اسے اپنا افضل عمل سمجھا اور بطور وسیلہ دربار الٰہی میں پیش کی اور اللہ اس نے اس عمل خیر کو قبول فرمایا اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
اس سے اعمال کو بطور وسیلہ بوقت دعاءدربار الٰہی میں پیش کرنا بھی ثابت ہوا۔ یہی وہ وسیلہ ہے جس کا قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے یا یہا الذین امنوا اتقوا اللہ و ابتغوا الیہ الوسلیۃ و جاہدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون ( المائدہ : 35 ) اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ( اعمال خیر سے ) اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو، اور اللہ کے دین کی اشاعت کے لیے جد و جہد محنت کوشش بصورت جہاد وغیرہ جاری رکھو تاکہ تم کو کامیابی حاصل ہو۔ جو لوگ اعمال خیر کو چھوڑ کر بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں اور اسی خیال باطل کے تحت ان کو اٹھتے بیٹھتے پکارتے ہیں وہ لوگ شرک کا ارتکاب کرکے عنداللہ زمرہ مشرکین میں لکھے جاتے ہیں۔ ابلیس علیہ اللعنۃ کا یہ وہ فریب ہے جس میں نام نہاد اہل اسلام کی کثیر تعداد گرفتار ہے۔ اسی خیال باطل کے تحت بزرگان دین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات پر تقریبات کی جاتی ہیں۔ قربانیاں دی جاتی ہیں۔ عرس کئے جاتے ہیں۔ ان کے ناموں پر نذریں نیازیں ہوتی ہیں۔ یہ جملہ امور مشرکین قوموں سے سیکھے گئے ہیں اور جو مسلمان ان میں گرفتار ہیں ان کو اپنے دین و ایمان کی خیر منانی چاہئے۔
دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے۔ یعنی میں نے محنت کرکے سوا اشرفیاں جمع کیں۔ ابن عقبہ کی روایت کو خود امام بخاری نے کتاب الادب میں وصل کیا ہے۔
تشریح : اس حدیث طویل کے ذیل میں حضرت حافظ صاحب فرماتے ہیں : اورد فیہ حدیث الثلاثۃ الذین انطبق علیہم الغار و سیاتی القول فی شرحہ فی احادیث الانبیاءو المقصود ہنا قول احد الثلاثۃ فعرضت علیہ ای علی الاجیر حقہ فرغب عنہ فلم ازل ازرعہ حتی جمعت منہا بقرا ورعاتہا فان الظاہر انہ عین لہ اجرتہ فلما ترکہا بعد ان تعینت لہ ثم تصرف فیہا السمتاجر بعینہا صارت من ضمانہ قال بن المنیر مطابقۃ الترجمۃ انہ قد عین لہ حقہ و مکنہ منہ فبرئت ذمتہ بذلک فلما ترکہ وضع المستاجر یدہ علیہ وضعا مستانفا ثم تصرف فیہ بطریق الاصلاح لا بطریق التضییع فاغتفر ذلک و لم یعد تعد یا و لذلک توسل بہ الی اللہ عزوجل و جعلہ من افضل اعمالہ و اقر علی ذلک ووقعت لہ الاجابۃ الخ ( فتح الباری )
یعنی اس جگہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ان تین اشخاص والی حدیث کو نقل فرمایا جن کو غار نے چھپا لیا تھا، اس کی پوری شرح کتاب احادیث الانبیاءمیں آئے گی۔ یہاں مقصود ان تینوں میں سے اس ایک شخص کا قول ہے جس نے کہا تھا کہ میں نے اپنے مزدور کو اس کا پورا حق دینا چاہا۔ لیکن اس نے انکار کر دیا۔ پس اس نے اس کی کاشت شروع کر دی، یاں تک کہ اس نے اس کی آمد سے بیل اوراس کی لیے ہالی خرید لئے۔ پس ظاہر ہے کہ اس نے اس مزدور کی اجرت مقرر کر رکھی تھی مگر اس نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر اس مالک نے اپنی ذمہ داری پر اسے کاروبار میں لگایا۔ ابن منیر نے کہا کہ مطابقت یوں ہے کہ اس باغ والے نے اس کی اجرت مقرر کر دی اور اس کو دی۔ مگر اس مزدور نے اسے چھوڑ دیا۔ پھر اس شخص نے اصلاح اور ترقی کی نیت سے اسے بڑھانا شروع کر دیا۔ اسی نیت خیر کی وجہ سے اس نے اسے اپنا افضل عمل سمجھا اور بطور وسیلہ دربار الٰہی میں پیش کی اور اللہ اس نے اس عمل خیر کو قبول فرمایا اسی سے مقصد باب ثابت ہوا۔
اس سے اعمال کو بطور وسیلہ بوقت دعاءدربار الٰہی میں پیش کرنا بھی ثابت ہوا۔ یہی وہ وسیلہ ہے جس کا قرآن مجید میں حکم دیا گیا ہے یا یہا الذین امنوا اتقوا اللہ و ابتغوا الیہ الوسلیۃ و جاہدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون ( المائدہ : 35 ) اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور ( اعمال خیر سے ) اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو، اور اللہ کے دین کی اشاعت کے لیے جد و جہد محنت کوشش بصورت جہاد وغیرہ جاری رکھو تاکہ تم کو کامیابی حاصل ہو۔ جو لوگ اعمال خیر کو چھوڑ کر بزرگوں کا وسیلہ ڈھونڈھتے ہیں اور اسی خیال باطل کے تحت ان کو اٹھتے بیٹھتے پکارتے ہیں وہ لوگ شرک کا ارتکاب کرکے عنداللہ زمرہ مشرکین میں لکھے جاتے ہیں۔ ابلیس علیہ اللعنۃ کا یہ وہ فریب ہے جس میں نام نہاد اہل اسلام کی کثیر تعداد گرفتار ہے۔ اسی خیال باطل کے تحت بزرگان دین کی تاریخ ولادت و تاریخ وفات پر تقریبات کی جاتی ہیں۔ قربانیاں دی جاتی ہیں۔ عرس کئے جاتے ہیں۔ ان کے ناموں پر نذریں نیازیں ہوتی ہیں۔ یہ جملہ امور مشرکین قوموں سے سیکھے گئے ہیں اور جو مسلمان ان میں گرفتار ہیں ان کو اپنے دین و ایمان کی خیر منانی چاہئے۔