‌صحيح البخاري - حدیث 2332

كِتَابُ المُزَارَعَةِ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الشُّرُوطِ فِي المُزَارَعَةِ صحيح حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى سَمِعَ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِيَّ عَنْ رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ حَقْلًا وَكَانَ أَحَدُنَا يُكْرِي أَرْضَهُ فَيَقُولُ هَذِهِ الْقِطْعَةُ لِي وَهَذِهِ لَكَ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ ذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ ذِهِ فَنَهَاهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2332

کتاب: کھیتی باڑی اور بٹائی کا بیان باب : بٹائی میں کون سی شرطیں لگانا مکروہ ہے ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن سعید انصاری نے، انہوں نے حنظلہ زرقی سے سنا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے پاس مدینہ کے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں زمین زیادہ تھی۔ ہمارے یہاں طریقہ یہ تھا کہ جب زمین بصورت جنس کرایہ پر دیتے تو یہ شرط لگا دیتے کہ اس حصہ کی پیداوار تو میری رہے گی اور اس حصہ کی تمہاری رہے گی۔ پھر کبھی ایسا ہوتا کہ ایک حصہ کی پیداوار خوب ہوتی اور دوسرے کی نہ ہوتی۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اس طرح معاملہ کرنے سے منع فرما دیا۔
تشریح : یہیں سے ترجمہ باب نکلتا ہے کیوں کہ یہ ایک فاسد شرط ہے کہ یہاں کے پیداوار میں لوں گا وہاں کا تو لے، یہ سراسر نزاع کی صورت ہے۔ اسی لیے ایسی شرطیں لگانا مکروہ قرار دیا گیا۔ یہیں سے ترجمہ باب نکلتا ہے کیوں کہ یہ ایک فاسد شرط ہے کہ یہاں کے پیداوار میں لوں گا وہاں کا تو لے، یہ سراسر نزاع کی صورت ہے۔ اسی لیے ایسی شرطیں لگانا مکروہ قرار دیا گیا۔