‌صحيح البخاري - حدیث 2206

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ النَّخْلِ بِأَصْلِهِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَهُ الْمُبْتَاعُ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2206

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : کھجور کے درخت کو جڑ سمیت بیچنا ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے بھی کسی کھجور کے درخت کو پیوندی بنایا۔ پھر اس درخت ہی کو بیچ دیا تو ( اس موسم کا پھل ) اسی کا ہو گا جس نے پیوندی کیا ہے، لیکن اگر خریدار نے پھلوں کی بھی شرط لگا دی ہے۔ ( تو یہ امر دیگر ہے )
تشریح : معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ خریدار پر موقوف ہے۔ اگر اس نے کوئی شرط لگا کر وہ بیع کی ہے تو وہ شرط نافذ ہوگی اور اگر بغیر شرط سودا ہوا ہے تو اس موسم کا پھل پہلے مالک ہی کا ہوگا۔ جس نے ان درختوں کو پیوندی کیا ہے۔ حدیث سے درخت کا اصل جڑ سمیت بیجنا ثابت ہوا۔ معلوم ہوا کہ یہاں بھی معاملہ خریدار پر موقوف ہے۔ اگر اس نے کوئی شرط لگا کر وہ بیع کی ہے تو وہ شرط نافذ ہوگی اور اگر بغیر شرط سودا ہوا ہے تو اس موسم کا پھل پہلے مالک ہی کا ہوگا۔ جس نے ان درختوں کو پیوندی کیا ہے۔ حدیث سے درخت کا اصل جڑ سمیت بیجنا ثابت ہوا۔