‌صحيح البخاري - حدیث 2204

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ، أَوْ أَرْضًا مَزْرُوعَةً أَوْ بِإِجَارَةٍ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2204

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : جس نے پیوند لگائی ہوتی کھجوریں یا کھیتی کھڑی ہوئی زمین بیچی یا ٹھیکہ پر دی تو میوہ اور اناج بائع کا ہوگا ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبردی، انہیں نافع نے، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی نے کھجور کے ایسے درخت بیچے ہوں جن کو پیوندی کیا جاچکا تھا تو اس کا پھل بیچنے والے ہی کا رہتا ہے۔ البتہ اگر خریدنے والے نے شرط لگا دی ہو۔ ( کہ پھل سمیت سودا ہو رہا ہے تو پھل بھی خریدار کی ملکیت میں آجائیں گے )۔
تشریح : حدیث میں لفظ غلام بھی آیا ہے۔ جس کا مطلب یہ کہ اگر کوئی شخص اپنا غلام بیچے تو اس وقت جتنا مال غلام کے پاس ہے وہ اصل مالک ہی کا سمجھا جائے گا اورخریدنے والے کو صرف خالی غلام ملے گا۔ ہاں اگر خریدار یہ شرط کر لے کہ میں غلام کو اس کے جملہ املاک سمیت خریدتا ہوں تو پھر جملہ املاک خریدار کے ہوں گے۔ یہی حال پیوندی باغ کا ہے۔ یہ آپس کی معاملہ داری پر موقوف ہے۔ ارض مزروعہ کی بیع کے لیے بھی یہی اصول ہے۔ حافظ فرماتے ہیں و ہذا کلہ عند اطلاق بیع النخل من غیر تعرض للثمرۃ فان شرطھا المشتری بان قال اشتریت النخل بثمرتہا کانت للمشتری و ان شرطہا البائع لنفسہ قبل التابیر کانت لہ یعنی یہ معاملہ خریدار پر موقف ہے اگر اس نے پھلوں سمیت کی شرط پر سودا کیا ہے تو پھل اسے ملیں گے اور اگر بائع نے اپنے لیے ان پھلوں کی شرط لگا دی ہے تو بائع کا حق ہوگا۔ اس حدیث سے پھلوں کا پیوندی بنانا بھی جائز ثابت ہوا جس میں ماہرین فن نر درختوں کی شاخ کاٹ کر مادہ درخت کی شاخ کے ساتھ باندھ دیتے ہیں اور قدرت خداوندی سے وہ ہر دو شاخیں مل جاتی ہیں۔ پھر وہ پیوندی درخت بکثرت پھل دینے لگ جاتا ہے۔ آج کل اس فن نے بہت کافی ترقی کی ہے اور اب تجربات جدیدہ نے نہ صرف درختوں بلکہ غلہ جات تک کے پودوں میں اس عمل سے کامیابی حاصل کی ہے حتی کہ اعضائے حیوانات پر یہ تجربات کئے جارہے ہیں۔ حدیث میں لفظ غلام بھی آیا ہے۔ جس کا مطلب یہ کہ اگر کوئی شخص اپنا غلام بیچے تو اس وقت جتنا مال غلام کے پاس ہے وہ اصل مالک ہی کا سمجھا جائے گا اورخریدنے والے کو صرف خالی غلام ملے گا۔ ہاں اگر خریدار یہ شرط کر لے کہ میں غلام کو اس کے جملہ املاک سمیت خریدتا ہوں تو پھر جملہ املاک خریدار کے ہوں گے۔ یہی حال پیوندی باغ کا ہے۔ یہ آپس کی معاملہ داری پر موقوف ہے۔ ارض مزروعہ کی بیع کے لیے بھی یہی اصول ہے۔ حافظ فرماتے ہیں و ہذا کلہ عند اطلاق بیع النخل من غیر تعرض للثمرۃ فان شرطھا المشتری بان قال اشتریت النخل بثمرتہا کانت للمشتری و ان شرطہا البائع لنفسہ قبل التابیر کانت لہ یعنی یہ معاملہ خریدار پر موقف ہے اگر اس نے پھلوں سمیت کی شرط پر سودا کیا ہے تو پھل اسے ملیں گے اور اگر بائع نے اپنے لیے ان پھلوں کی شرط لگا دی ہے تو بائع کا حق ہوگا۔ اس حدیث سے پھلوں کا پیوندی بنانا بھی جائز ثابت ہوا جس میں ماہرین فن نر درختوں کی شاخ کاٹ کر مادہ درخت کی شاخ کے ساتھ باندھ دیتے ہیں اور قدرت خداوندی سے وہ ہر دو شاخیں مل جاتی ہیں۔ پھر وہ پیوندی درخت بکثرت پھل دینے لگ جاتا ہے۔ آج کل اس فن نے بہت کافی ترقی کی ہے اور اب تجربات جدیدہ نے نہ صرف درختوں بلکہ غلہ جات تک کے پودوں میں اس عمل سے کامیابی حاصل کی ہے حتی کہ اعضائے حیوانات پر یہ تجربات کئے جارہے ہیں۔