‌صحيح البخاري - حدیث 2200

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ شِرَاءِ الطَّعَامِ إِلَى أَجَلٍ صحيح حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ قَالَ ذَكَرْنَا عِنْدَ إِبْرَاهِيمَ الرَّهْنَ فِي السَّلَفِ فَقَالَ لَا بَأْسَ بِهِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرَى طَعَامًا مِنْ يَهُودِيٍّ إِلَى أَجَلٍ فَرَهَنَهُ دِرْعَهُ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2200

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : اناج ادھار ( ایک مدت مقرر کرکے ) خریدنا ہم سے عمرو بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے ابراہیم کے سامنے قرض میں گروی رکھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ پھر ہم سے اسود کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقررہ مدت کے قرض پر ایک یہودی سے غلہ خریدا اور اپنی زرہ اس کے یہاں گروی رکھی تھی۔
تشریح : مقصد باب یہ ہے کہ غلہ بوقت ضرورت ادھار بھی خریدا جاسکتا ہے۔ اور ضرورت لاحق ہو تو اس قرض کے سلسلہ میں اپنی کسی بھی چیز کو گروی رکھنا بھی جائز ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اس قسم کے دنیاوی معاملات غیر مسلموں سے بھی کئے جاسکتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ ادھار حاصل فرمایا۔ اور آپ پر خوب واضح تھا کہ یہودیوں کے ہاں ہر قسم کے معاملات ہوتے ہیں۔ ان حالات میں بھی آپ نے ان سے غلہ ادھار لیا اور ان کے اطمینان مزید کے لیے اپنی زرہ مبارک کو اس یہودی کے ہاں گروی رکھ دیا۔ سند میں مذکورہ راوی حضرت اعمش رحمۃ اللہ علیہ سلیمان بن مہران کاہلی اسدی ہیں۔ بنوکاہل کے آزاد کردہ ہیں۔ بنوکاہل ایک شاخ بنواسد خزیمہ کی ہے۔ یہ 60ھ میں رے میں پیدا ہوئے اور کسی نے ان کو اٹھا کر کوفہ میں لاکر فروخت کردیا تو بنی کاہل کے کسی بزرگ نے خرید کر ان کو آزاد کر دیا۔ علم حدیث و قرات کے مشہور ائمہ میں سے ہیں اہل کوفہ کی روایات کا زیادہ مدار ان پر ہی ہے۔ 148ھ میں وفات پائی۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ نیز حضرت اسود بھی مشہور تابعی ہیں جو ابن ہلال محاربی سے مشہور ہیں۔ عمرو بن معاذ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اور ان سے زہری نے روایت کی ہے۔ 84ھ میں وفات پائی۔ رحمہ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ۔ آمین۔ مقصد باب یہ ہے کہ غلہ بوقت ضرورت ادھار بھی خریدا جاسکتا ہے۔ اور ضرورت لاحق ہو تو اس قرض کے سلسلہ میں اپنی کسی بھی چیز کو گروی رکھنا بھی جائز ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اس قسم کے دنیاوی معاملات غیر مسلموں سے بھی کئے جاسکتے ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ ادھار حاصل فرمایا۔ اور آپ پر خوب واضح تھا کہ یہودیوں کے ہاں ہر قسم کے معاملات ہوتے ہیں۔ ان حالات میں بھی آپ نے ان سے غلہ ادھار لیا اور ان کے اطمینان مزید کے لیے اپنی زرہ مبارک کو اس یہودی کے ہاں گروی رکھ دیا۔ سند میں مذکورہ راوی حضرت اعمش رحمۃ اللہ علیہ سلیمان بن مہران کاہلی اسدی ہیں۔ بنوکاہل کے آزاد کردہ ہیں۔ بنوکاہل ایک شاخ بنواسد خزیمہ کی ہے۔ یہ 60ھ میں رے میں پیدا ہوئے اور کسی نے ان کو اٹھا کر کوفہ میں لاکر فروخت کردیا تو بنی کاہل کے کسی بزرگ نے خرید کر ان کو آزاد کر دیا۔ علم حدیث و قرات کے مشہور ائمہ میں سے ہیں اہل کوفہ کی روایات کا زیادہ مدار ان پر ہی ہے۔ 148ھ میں وفات پائی۔ رحمۃ اللہ علیہ۔ نیز حضرت اسود بھی مشہور تابعی ہیں جو ابن ہلال محاربی سے مشہور ہیں۔ عمرو بن معاذ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اور ان سے زہری نے روایت کی ہے۔ 84ھ میں وفات پائی۔ رحمہ اللہ علیہ رحمۃ واسعۃ۔ آمین۔