‌صحيح البخاري - حدیث 2197

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ النَّخْلِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا صحيح حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَعَنْ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ قِيلَ وَمَا يَزْهُو قَالَ يَحْمَارُّ أَوْ يَصْفَارُّ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2197

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : جب تک کھجور پختہ نہ ہو اس کا بیچنا منع ہے مجھ سے علی بن ہشیم نے بیان کیا کہ ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں حمید نے خبر دی او ران سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پختہ ہونے سے پہلے پھلوں کو بیچنے سے منع فرمایا ہے اور کھجور کے باغ کو ” زہو “ سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا، آپ سے پوچھا گیا کہ زہو کسے کہتے ہیں تو آپ نے جواب دیا مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے کو کہتے ہیں۔
تشریح : گویا لفظ زہو خاص کھجور کے مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے پر بولا جاتاہے۔ گویا لفظ زہو خاص کھجور کے مائل بہ سرخی یا مائل بہ زردی ہونے پر بولا جاتاہے۔