كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ يَبْدُوَ صَلاَحُهَا صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ مُقَاتِلٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ ثَمَرَةُ النَّخْلِ حَتَّى تَزْهُوَ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ يَعْنِي حَتَّى تَحْمَرَّ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : پھلوں کی پختگی معلوم ہونے سے پہلے ان کو بیچنا منع ہے
ہم سے ابن مقاتل نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے او رانہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکنے سے پہلے درخت پر کھجور کو بیچنے سے منع فرمایا ہے، ابوعبداللہ ( امام بخاری ) نے کہا کہ ( حتی تزہو سے ) مراد یہ ہے کہ جب تک وہ پک کر سرخ نہ ہو جائیں۔
تشریح :
زہو کی تفسیر میں علامہ شوکانی فرماتے ہیں : یقال ذہا النخل یزہو اذا ظہرت ثمرتہ و ازہی یزہی اذا احمر او اصفر یعنی جب کھجور کا پھل ظاہر ہو کر پختگی پر آنے کے لیے سرخ یا زرد ہو جائے تو اس پر زہا النخل کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اور اس کا موسم اساڑھ کا مہینہ ہے۔ اس میں عرب میں ثریا ستارہ صبح کے وقت نکلنے لگتا ہے۔ ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے اذا طلع النجم صباحا رفعت العاہۃ عن کل بلد نجم سے مراد ثریا ہے یعنی جس موسم میں یہ ستارہ صبح کے وقت نکلنا شروع ہو جاتا ہے تو وہ موسم اب پھلوں کے پکنے کا آگیا، اور اب پھلوں کے لیے خطرات کا زمانہ ختم ہو گیا۔ و النجم ہو الثریا و طلوعہا یقع فی اول الصیف و ذلک عند اشتداد الحر فی بلاد الحجاز و ابتداءنضج الثمار و اخرج احمد من طریق عثمان بن عبداللہ بن سراقہ سالت ابن عمر رضی اللہ عنہما عن بیع الثمار فقال نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الثمار حتی تذہب العاہۃ قلت و متی ذلک قال حتی تطلع الثریا ( نیل ) اس عبار ت کا اردو مفہوم وہی ہے جو پہلے لکھا گیا ہے۔
زہو کی تفسیر میں علامہ شوکانی فرماتے ہیں : یقال ذہا النخل یزہو اذا ظہرت ثمرتہ و ازہی یزہی اذا احمر او اصفر یعنی جب کھجور کا پھل ظاہر ہو کر پختگی پر آنے کے لیے سرخ یا زرد ہو جائے تو اس پر زہا النخل کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اور اس کا موسم اساڑھ کا مہینہ ہے۔ اس میں عرب میں ثریا ستارہ صبح کے وقت نکلنے لگتا ہے۔ ابوداؤد میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے اذا طلع النجم صباحا رفعت العاہۃ عن کل بلد نجم سے مراد ثریا ہے یعنی جس موسم میں یہ ستارہ صبح کے وقت نکلنا شروع ہو جاتا ہے تو وہ موسم اب پھلوں کے پکنے کا آگیا، اور اب پھلوں کے لیے خطرات کا زمانہ ختم ہو گیا۔ و النجم ہو الثریا و طلوعہا یقع فی اول الصیف و ذلک عند اشتداد الحر فی بلاد الحجاز و ابتداءنضج الثمار و اخرج احمد من طریق عثمان بن عبداللہ بن سراقہ سالت ابن عمر رضی اللہ عنہما عن بیع الثمار فقال نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن بیع الثمار حتی تذہب العاہۃ قلت و متی ذلک قال حتی تطلع الثریا ( نیل ) اس عبار ت کا اردو مفہوم وہی ہے جو پہلے لکھا گیا ہے۔