كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ المُزَابَنَةِ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْخَصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : بیع مزابنہ کے بیان میں
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحب عریہ کو اس کی اجازت دی کہ اپنا عریہ اس کے اندازے برابر میوے کے بدل بیچ ڈالے۔
تشریح :
یعنی باغ والے کے ہاتھ۔ یہ صحیح ہے کہ عریہ بھی مزابنہ ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی۔ اس وجہ سے کہ عریہ خیر خیرات کا کام ہے۔ اگر عریہ میں یہ اجازت نہ دی جاتی تو لوگ کھجور یا میوے کے درخت مسکینوں کو للہ دینا چھوڑ دیتے۔ اس لیے کہ اکثر لوگ یہ خیال کرتے کہ ہمارے باغ میں رات بے رات مسکین گھستے رہیں گے۔ اور ان کے گھسنے اور بے موقع آنے سے ہم کو تکلیف ہوگی۔
یعنی باغ والے کے ہاتھ۔ یہ صحیح ہے کہ عریہ بھی مزابنہ ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی۔ اس وجہ سے کہ عریہ خیر خیرات کا کام ہے۔ اگر عریہ میں یہ اجازت نہ دی جاتی تو لوگ کھجور یا میوے کے درخت مسکینوں کو للہ دینا چھوڑ دیتے۔ اس لیے کہ اکثر لوگ یہ خیال کرتے کہ ہمارے باغ میں رات بے رات مسکین گھستے رہیں گے۔ اور ان کے گھسنے اور بے موقع آنے سے ہم کو تکلیف ہوگی۔