كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ المُزَابَنَةِ صحيح قَالَ سَالِمٌ وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِهِ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : بیع مزابنہ کے بیان میں
سالم نے بیان کیا کہ مجھے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، اور انہیں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہ بعد میں رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عریہ کی تر یا خشک کھجور کے بدلہ میں اجازت دے دی تھی لیکن اس کے سوا کسی صورت کی اجازت نہیں دی تھی۔
تشریح :
اسی طرح تر کھجور خشک کھجور کے بدل برابر برابر بیچنا ناجائز ہے کیوں کہ تر کھجور سوکھے سے وزن میں کم ہو جاتی ہے، جمہور علماءکا یہی قول ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسے جائز رکھا ہے۔ عرایا عریہ کی جمع ہے۔ حنفیہ نے برخلاف جمہور علماءکے عرایا کو بھی جائز نہیں رکھا کیوں کہ وہ بھی مزابنہ میں داخل ہے اور ہم کہتے ہیں کہ جہاں مزابنہ کی ممانعت آئی ہے وہیں یہ مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت دے دی۔
اسی طرح تر کھجور خشک کھجور کے بدل برابر برابر بیچنا ناجائز ہے کیوں کہ تر کھجور سوکھے سے وزن میں کم ہو جاتی ہے، جمہور علماءکا یہی قول ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسے جائز رکھا ہے۔ عرایا عریہ کی جمع ہے۔ حنفیہ نے برخلاف جمہور علماءکے عرایا کو بھی جائز نہیں رکھا کیوں کہ وہ بھی مزابنہ میں داخل ہے اور ہم کہتے ہیں کہ جہاں مزابنہ کی ممانعت آئی ہے وہیں یہ مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی اجازت دے دی۔