‌صحيح البخاري - حدیث 2173

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ الزَّبِيبِ بِالزَّبِيبِ، وَالطَّعَامِ بِالطَّعَامِ صحيح قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2173

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما نے بیان کیا، کہ مجھے سے زید بن ثابت رضی ا للہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عرایا کی اجازت دے دی تھی جو اندازے ہی سے بیع کی ایک صورت ہے۔
تشریح : عرایا بھی مزابنہ ہی ایک قسم ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خاص طور سے اجازت دی بوجہ ضرورت کے۔ وہ ضرورت یہ تھی کہ لوگ خیرات کے طور پر ایک دو درخت کا میوہ کسی محتاج کو دیا کرتے تھے پھر اس کا باغ میں گھڑی گھڑی آنا مالک کوناگوار ہوتا۔ تو اس میوہ کا اندازہ کرکے اتنی خشک میوے کے بدل وہ درخت اس فقیر سے خرید لیتے۔ عرایا بھی مزابنہ ہی ایک قسم ہے۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خاص طور سے اجازت دی بوجہ ضرورت کے۔ وہ ضرورت یہ تھی کہ لوگ خیرات کے طور پر ایک دو درخت کا میوہ کسی محتاج کو دیا کرتے تھے پھر اس کا باغ میں گھڑی گھڑی آنا مالک کوناگوار ہوتا۔ تو اس میوہ کا اندازہ کرکے اتنی خشک میوے کے بدل وہ درخت اس فقیر سے خرید لیتے۔