كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ الزَّبِيبِ بِالزَّبِيبِ، وَالطَّعَامِ بِالطَّعَامِ صحيح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلًا وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْكَرْمِ كَيْلًا
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : منقی کو منقی کے بدل اور اناج کو اناج کے بدل بیچنا
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، مزابنہ یہ کہ درخت پر لگی ہوئی کھجور خشک کھجور کے بدلہ ماپ کرکے بیچی جائے۔ اسی طرح بیل پر لگے ہوئے انگور کو منقیٰ کے بدل بیچنا۔
تشریح :
یعنی وہ کھجور جو ابھی درخت سے نہ اتری ہو، اسی طرح وہ انگور جو ابھی بیل سے نہ توڑا گیا ہو اس کا اندازہ کرکے خشک کھجور یا منقیٰ کے بدل بیچنا درست نہیں کیوں کہ اس میں کمی بیشی کا احتمال ہے۔
یعنی وہ کھجور جو ابھی درخت سے نہ اتری ہو، اسی طرح وہ انگور جو ابھی بیل سے نہ توڑا گیا ہو اس کا اندازہ کرکے خشک کھجور یا منقیٰ کے بدل بیچنا درست نہیں کیوں کہ اس میں کمی بیشی کا احتمال ہے۔