كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ مُنْتَهَى التَّلَقِّي صحيح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانُوا يَبْتَاعُونَ الطَّعَامَ فِي أَعْلَى السُّوقِ فَيَبِيعُونَهُ فِي مَكَانِهِ فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي مَكَانِهِ حَتَّى يَنْقُلُوهُ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : قافلے سے کتنی دور آگے جا کر ملنا منع ہے
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ نے، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگ بازار کی بلند جانب جاکر غلہ خریدتے اور وہیں بیچنے لگتے۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ غلہ وہاں نہ بیچیں جب تک اس کو اٹھوا کر دوسری جگہ نہ لے جائیں۔
تشریح :
معلوم ہوا کہ جب قافلہ بازار میں آجائے تو اس سے آگے بڑھ کر ملنا درست نہیں۔ بعض نے کہا بستی کی حد تک آگے بڑھ کر ملنا درست ہے۔ بستی سے باہرجاکر ملنا درست نہیں۔ مالکیہ نے کہا کہ اس میں اختلاف ہے، کوئی کہتا ہے کہ ایک میل سے کم آگے بڑھ کر ملنا درست ہے کوئی کہتا ہے کہ چھ میل سے کم پر، کوئی کہتا ہے کہ دو دن کی راہ سے کم پر۔
معلوم ہوا کہ جب قافلہ بازار میں آجائے تو اس سے آگے بڑھ کر ملنا درست نہیں۔ بعض نے کہا بستی کی حد تک آگے بڑھ کر ملنا درست ہے۔ بستی سے باہرجاکر ملنا درست نہیں۔ مالکیہ نے کہا کہ اس میں اختلاف ہے، کوئی کہتا ہے کہ ایک میل سے کم آگے بڑھ کر ملنا درست ہے کوئی کہتا ہے کہ چھ میل سے کم پر، کوئی کہتا ہے کہ دو دن کی راہ سے کم پر۔