‌صحيح البخاري - حدیث 2165

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَلَقِّي الرُّكْبَانِ وَأَنَّ بَيْعَهُ مَرْدُودٌ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا تَلَقَّوْا السِّلَعَ حَتَّى يُهْبَطَ بِهَا إِلَى السُّوقِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2165

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : پہلے سے آگے جاکر قافلے والوں سے ملنے کی ممانعت اور یہ بیع رد کر دی جاتی ہے ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور جو مال باہر سے آ رہا ہو اس سے آگے جا کر نہ ملے جب تک وہ بازار میں نہ آئے۔
تشریح : بیع پر بیع کا مطلب ظاہرہے کہ ایک شخص کسی مسلمان بھائی کی دکان سے کوئی مال خرید رہا ہے ہم نے اسے جاکر بہکانا شروع کر دیا کہ آپ یہاں سے یہ مال نہ لیجئے ہم آپ کو اور بھی سستا دلا دیں گے۔ اس قسم کی باتیں کرنا بھی حرام ہیں۔ ایسے ہی کہیں جاکر بھاؤ چڑھا دینا محض خریدار کو نقصان پہنچانے کے لیے حالانکہ خود خریدنے کی نیت بھی نہیں ہے۔ یہ سب مکروہ فریب اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی صورتیں ہیں جو سب حرام اور ناجائز ہیں۔ بیع پر بیع کا مطلب ظاہرہے کہ ایک شخص کسی مسلمان بھائی کی دکان سے کوئی مال خرید رہا ہے ہم نے اسے جاکر بہکانا شروع کر دیا کہ آپ یہاں سے یہ مال نہ لیجئے ہم آپ کو اور بھی سستا دلا دیں گے۔ اس قسم کی باتیں کرنا بھی حرام ہیں۔ ایسے ہی کہیں جاکر بھاؤ چڑھا دینا محض خریدار کو نقصان پہنچانے کے لیے حالانکہ خود خریدنے کی نیت بھی نہیں ہے۔ یہ سب مکروہ فریب اور دوسروں کو نقصان پہنچانے کی صورتیں ہیں جو سب حرام اور ناجائز ہیں۔