كِتَابُ البُيُوعِ بَابٌ: لاَ يَشْتَرِي حَاضِرٌ لِبَادٍ بِالسَّمْسَرَةِ صحيح حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْتَاعُ الْمَرْءُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : اس بیان میں کہ کوئی بستی والا باہر والے کے لیے دلالی کرکے مول نہ لے
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں سعید بن مسیب نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کوئی شخص اپنے کسی بھائی کے مول پر مول نہ کرے اور کوئی ” نجش “ نہ کرے، اور نہ کوئی شہری، کسی دیہاتی کے لیے بیچے یا مول لے۔
تشریح :
امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں و قد اخرج ابوعوانۃ فی صحیحہ عن ابن سیرین قال لقیت انس بن مالک فقلت لا یبیع حاضر لباد انہیتہم ان تبیعوا او تبتاعوا لہم قال نعم الخ یعنی ابن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا واقعی کوئی شہری کسی بھی دیہاتی کے لیے نہ کچھ مال بیچے نہ خریدے، انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ اور اس کی تائید اس حدیث نبوی سے بھی ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دعوا الناس یرزق اللہ بعضہم من بعض یعنی لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اللہ ان کے بعض کو بعض کے ذریعہ سے روزی دیتا ہے۔
امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں و قد اخرج ابوعوانۃ فی صحیحہ عن ابن سیرین قال لقیت انس بن مالک فقلت لا یبیع حاضر لباد انہیتہم ان تبیعوا او تبتاعوا لہم قال نعم الخ یعنی ابن سیرین نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا، کیا واقعی کوئی شہری کسی بھی دیہاتی کے لیے نہ کچھ مال بیچے نہ خریدے، انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ اور اس کی تائید اس حدیث نبوی سے بھی ہوتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دعوا الناس یرزق اللہ بعضہم من بعض یعنی لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو، اللہ ان کے بعض کو بعض کے ذریعہ سے روزی دیتا ہے۔