كِتَابُ البُيُوعِ بَابٌ: هَلْ يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ بِغَيْرِ أَجْرٍ، وَهَلْ يُعِينُهُ [ص:72] أَوْ يَنْصَحُهُ صحيح حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلَقَّوْا الرُّكْبَانَ وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ مَا قَوْلُهُ لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ قَالَ لَا يَكُونُ لَهُ سِمْسَارًا
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : کیا کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان کسی اجرت کے بغیر بیچ سکتا ہے؟
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابن عباس رضی ا للہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( تجارتی ) قافلوں سے آگے جاکر نہ ملاکرو ( ان کو منڈی میں آنے دو ) اور کوئی شہری، کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے ابن عباس رضی ا للہ عنہما سے پوچھا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا کہ ” کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے “ کا مطلب کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ مطلب یہ ہے کہ اس کا دلال نہ بنے۔
تشریح :
اور اس سے دلالی کا حق ٹھہرا کر بستی والوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اگر یہ دلال نہ بنتا تو شاید غریبوں کو غلہ سستا ملتا۔ حنفیہ نے کہا کہ یہ حدیث اس وقت ہے جب غلہ کا قحط ہو۔ مالکیہ نے کہا عام ہے۔ ہمارے احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ممانعت اس صورت میں ہے جب پانچ باتیں ہوں۔ جنگل سے کوئی اسباب بیچنے کو آئے، اس دن کے نرخ پر بیچنا چاہے، نرخ اس کو معلوم نہ ہو۔ بستی والا قصد کرکے اس کے پاس جائے، مسلمانوں کو اس اسباب کی حاجت ہو، جب یہ پانچ باتیں پائی جائیں گی تو بیع حرام اور باطل ہوگی ورنہ صحیح ہوگی۔ ( وحیدی )
سمسارا کی تشریح میں امام شوکانی فرماتے ہیں بسینین مہملتین قال فی الفتح و ہو فی الاصل القیم بالامر و الحافظ ثم استعمل فی متولی البیع و الشراءلغیرہ۔ یعنی سمسار اصل میں کسی کام کے محافظ اور انجام دینے والے شخص کو کہا جاتا ہے اور اب یہ اس کے لیے مستعمل ہے جو خرید و فروخت کی تولیت اپنے ذمے لیتا ہے جسے آج کل دلال کہتے ہیں۔
اور اس سے دلالی کا حق ٹھہرا کر بستی والوں کو نقصان نہ پہنچائے۔ اگر یہ دلال نہ بنتا تو شاید غریبوں کو غلہ سستا ملتا۔ حنفیہ نے کہا کہ یہ حدیث اس وقت ہے جب غلہ کا قحط ہو۔ مالکیہ نے کہا عام ہے۔ ہمارے احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ممانعت اس صورت میں ہے جب پانچ باتیں ہوں۔ جنگل سے کوئی اسباب بیچنے کو آئے، اس دن کے نرخ پر بیچنا چاہے، نرخ اس کو معلوم نہ ہو۔ بستی والا قصد کرکے اس کے پاس جائے، مسلمانوں کو اس اسباب کی حاجت ہو، جب یہ پانچ باتیں پائی جائیں گی تو بیع حرام اور باطل ہوگی ورنہ صحیح ہوگی۔ ( وحیدی )
سمسارا کی تشریح میں امام شوکانی فرماتے ہیں بسینین مہملتین قال فی الفتح و ہو فی الاصل القیم بالامر و الحافظ ثم استعمل فی متولی البیع و الشراءلغیرہ۔ یعنی سمسار اصل میں کسی کام کے محافظ اور انجام دینے والے شخص کو کہا جاتا ہے اور اب یہ اس کے لیے مستعمل ہے جو خرید و فروخت کی تولیت اپنے ذمے لیتا ہے جسے آج کل دلال کہتے ہیں۔