‌صحيح البخاري - حدیث 2155

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ البَيْعِ وَالشِّرَاءِ مَعَ النِّسَاءِ صحيح حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْتَرِي وَأَعْتِقِي فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَشِيِّ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ مَا بَالُ أُنَاسٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَنْ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَهُوَ بَاطِلٌ وَإِنْ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ شَرْطُ اللَّهِ أَحَقُّ وَأَوْثَقُ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2155

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : عورتوں سے خرید و فروخت کرنا ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہمیں شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر رضی ا للہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی ا للہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے ( بریرہ رضی ا للہ عنہ کے خریدنے کا ) ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا تم خرید کر آزاد کردو۔ ولاءتو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ” لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ ( خرید و فروخت میں ) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کوئی اصل کتاب اللہ میں نہیں ہے جو شخص بھی کوئی ایسی شرط لگائے گا جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ شرط باطل ہوگی۔ خواہ سو شرطیں ہی کیوں نہ لگالے کیوں کہ اللہ ہی کی شرط حق اور مضبوط ہے۔ “ ( اور اسی کا اعتبار ہے )
تشریح : اور حدیث میں جو شرطیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں وہ بھی اللہ ہی کی لگائی ہوئی ہیں۔ کیوں کہ جو کچھ حدیث میں ہے وہ بھی اللہ ہی کا حکم ہے۔ یہ خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سنایا جب بریرہ رضی اللہ عنہ کے مالک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ شرط لگاتے تھے کہ ہم بریرہ رضی اللہ عنہا کو اس شرط پر بیچتے ہیں کہ اس کا ترکہ ہم لیں گے۔ اور حدیث میں جو شرطیں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں وہ بھی اللہ ہی کی لگائی ہوئی ہیں۔ کیوں کہ جو کچھ حدیث میں ہے وہ بھی اللہ ہی کا حکم ہے۔ یہ خطبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت سنایا جب بریرہ رضی اللہ عنہ کے مالک حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ شرط لگاتے تھے کہ ہم بریرہ رضی اللہ عنہا کو اس شرط پر بیچتے ہیں کہ اس کا ترکہ ہم لیں گے۔