‌صحيح البخاري - حدیث 2153

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ العَبْدِ الزَّانِي صحيح حدثنا إسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن أبي هريرة، وزيد بن خالد ـ رضى الله عنهما ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سئل عن الأمة إذا زنت ولم تحصن قال ‏"‏إن زنت فاجلدوها، ثم إن زنت فاجلدوها، ثم إن زنت فبيعوها ولو بضفير‏"‏‏. ‏ قال ابن شهاب لا أدري بعد الثالثة، أو الرابعة‏.

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2153

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : زانی غلام کی بیع کا بیان ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبید اللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ اور زید بن خالد رضی ا للہ عنہ نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اگر کوئی غیر شادی شدہ باندی زنا کرے ( تو اس کا کیا حکم ہے ) آپ نے فرمایا کہ اسے کوڑے لگاؤ۔ اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے لگاؤ۔ پھر بھی اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو، اگرچہ ایک رسی ہی کے بدلے میں وہ فروخت ہو۔ ابن شہاب نے کہا کہ مجھے یہ معلوم نہیں کہ ( بیچنے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا تھا یا چوتھی مرتبہ۔
تشریح : ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر لونڈی محصنہ ( شادی شدہ ) ہو تو اس کو سنگسار کریں۔ حالانکہ لونڈی اورغلام پر بالاجماع رجم نہیں ہے۔ کیوں کہ خود قرآن شریف میں صاف حکم موجو دہے۔ فاذا احصن فان آتین بفاحشۃ فعلیہن نصف ما علی المحصنت من الغداب ( النساء: 25 ) اور رجم کا نصف نہیں ہوسکتا تو کوڑوں کا نصف مراد ہوگا۔ یعنی پچاس کوڑے مارو۔ بعض نے کہا حدیث کا ترجمہ یوں ہے اگر لونڈی اپنے تئیں زنا سے نہ بچائے اور زنا کرائے۔ ( وحیدی ) ظاہر حدیث سے یہ نکلتا ہے کہ اگر لونڈی محصنہ ( شادی شدہ ) ہو تو اس کو سنگسار کریں۔ حالانکہ لونڈی اورغلام پر بالاجماع رجم نہیں ہے۔ کیوں کہ خود قرآن شریف میں صاف حکم موجو دہے۔ فاذا احصن فان آتین بفاحشۃ فعلیہن نصف ما علی المحصنت من الغداب ( النساء: 25 ) اور رجم کا نصف نہیں ہوسکتا تو کوڑوں کا نصف مراد ہوگا۔ یعنی پچاس کوڑے مارو۔ بعض نے کہا حدیث کا ترجمہ یوں ہے اگر لونڈی اپنے تئیں زنا سے نہ بچائے اور زنا کرائے۔ ( وحیدی )