‌صحيح البخاري - حدیث 2151

كِتَابُ البُيُوعِ بَابٌ: إِنْ شَاءَ رَدَّ المُصَرَّاةَ وَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اشْتَرَى غَنَمًا مُصَرَّاةً فَاحْتَلَبَهَا فَإِنْ رَضِيَهَا أَمْسَكَهَا وَإِنْ سَخِطَهَا فَفِي حَلْبَتِهَا صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2151

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : خریدار اگر چاہے تو مصراۃ کو واپس کرسکتا ہے لیکن اس کے دودھ کے بدلہ میں ( جو خریدار نے استعمال کیا ہے ) ایک صاع کھجور دے دے ہم سے محمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے زیادنے خبر دی کہ عبدالرحمن بن زید کے غلام ثابت نے انہیں خبر دی، کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جس شخص نے ” مصراۃ “ بکری خریدی اور اسے دوہا۔ تو اگر وہ اس معاملہ پر راضی ہے تو اسے اپنے لیے روک لے اور اگر راضی نہیں ہے تو ( واپس کردے اور ) اس کے دودھ کے بدلے میں ایک صاع کھجور دے دے۔