‌صحيح البخاري - حدیث 2148

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ النَّهْيِ لِلْبَائِعِ أَنْ لاَ يُحَفِّلَ الإِبِلَ، وَالبَقَرَ وَالغَنَمَ صحيح حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الْأَعْرَجِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ فَمَنْ ابْتَاعَهَا بَعْدُ فَإِنَّهُ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ بَعْدَ أَنْ يَحْتَلِبَهَا إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعَ تَمْرٍ وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَمُجَاهِدٍ وَالْوَلِيدِ بْنِ رَبَاحٍ وَمُوسَى بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاعَ تَمْرٍ وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ وَهُوَ بِالْخِيَارِ ثَلَاثًا وَقَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ثَلَاثًا وَالتَّمْرُ أَكْثَرُ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2148

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : اونٹ یا بکری یا گائے کے تھن میں دودھ جمع کر رکھنا بائع کو منع ہے ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے، ان سے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے، ان سے ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( بیچنے کے لیے ) اونٹنی اور بکری کے تھنوں میں دودھ کو روک کر نہ رکھو۔ اگر کسی نے ( دھوکہ میں آکر ) کوئی ایسا جانور خریدلیا تو اسے دودھ دوہنے کے بعد دونوں اختیارات ہیں چاہے تو جانور کو رکھ لے، اور چاہے تو واپس کردے۔ اور ایک صاع کھجور اس کے ساتھ دودھ کے بدل دے دے۔ ابوصالح، مجاہد، ولید بن رباح اور موسیٰ بن یسار سے بواسطہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ایک صاع کھجور ہی کی ہے۔ بعض راویوں نے ابن سیرین سے ایک صاع کھجور کی روایت کی ہے اور یہ کہ خریدار کو ( صورت مذکورہ میں ) تین دن کا اختیار ہوگا۔ اگرچہ بعض دوسرے راویوں نے ابن سیرین ہی سے ایک صاع کھجور کی بھی روایت کی ہے، لیکن تین دن کے اختیار کا ذکر نہیں کیا اور ( تاوان میں ) کھجور دینے کی روایات ہی زیادہ ہیں۔
تشریح : لونڈی ہو یا گدھی ان کے دودھ کے بدل ایک صاع نہ دیا جائے گا۔ اور حنابلہ نے گدھی کے دودھ کے بدلے صاع دینا لازم نہیں رکھا۔ لیکن لونڈی میں انہوں نے اختلاف کیا ہے اور جمہور اہل علم، صحابہ اور تابعین اور مجتہدین نے باب کی حدیث پر عمل کیا ہے کہ ایسی صورت میں مشتری چاہے تو وہ جانور پھیر دے اور ایک صاع کھجور دودھ کا بدل دے دے۔ خواہ دودھ بہت ہو یا کم اور حنیفہ نے قیاس پر عمل کرکے اس صحیح حدیث کا خلاف کیا ہے اور کہتے کیا ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فقیہ نہ تھے۔ اس لیے ان کی روایت قیاس کے خلاف قبول نہیں ہو سکتی۔ اور یہ کھلی دھینگا مشتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم نقل فرمایا ہے اور لطف یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جن کو حنفی فقہ اور اجتہاد میں امام جانتے ہیں، ان سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ اور شاید حنفیہ کو الزام دینے کے لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کیا ہے اور خود حنفیہ نے بہت سے مقاموں میں حدیث سے قیاس جلی کو ترک کیا ہے، جیسے وضو بالنبیذ اور قہقہ میں پھر یہاں کیوں ترک نہیں کرتے۔ اور امام ابن قیم نے اس مسئلہ کے مالہ و ما علیہ پر پوری پوری روشنی ڈالتے ہوئے حنفیہ پر کافی رد کیا ہے۔ لونڈی ہو یا گدھی ان کے دودھ کے بدل ایک صاع نہ دیا جائے گا۔ اور حنابلہ نے گدھی کے دودھ کے بدلے صاع دینا لازم نہیں رکھا۔ لیکن لونڈی میں انہوں نے اختلاف کیا ہے اور جمہور اہل علم، صحابہ اور تابعین اور مجتہدین نے باب کی حدیث پر عمل کیا ہے کہ ایسی صورت میں مشتری چاہے تو وہ جانور پھیر دے اور ایک صاع کھجور دودھ کا بدل دے دے۔ خواہ دودھ بہت ہو یا کم اور حنیفہ نے قیاس پر عمل کرکے اس صحیح حدیث کا خلاف کیا ہے اور کہتے کیا ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فقیہ نہ تھے۔ اس لیے ان کی روایت قیاس کے خلاف قبول نہیں ہو سکتی۔ اور یہ کھلی دھینگا مشتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے حکم نقل فرمایا ہے اور لطف یہ ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جن کو حنفی فقہ اور اجتہاد میں امام جانتے ہیں، ان سے بھی ایسا ہی منقول ہے۔ اور شاید حنفیہ کو الزام دینے کے لیے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کیا ہے اور خود حنفیہ نے بہت سے مقاموں میں حدیث سے قیاس جلی کو ترک کیا ہے، جیسے وضو بالنبیذ اور قہقہ میں پھر یہاں کیوں ترک نہیں کرتے۔ اور امام ابن قیم نے اس مسئلہ کے مالہ و ما علیہ پر پوری پوری روشنی ڈالتے ہوئے حنفیہ پر کافی رد کیا ہے۔