كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ لاَ يَبِيعُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلاَ يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، حَتَّى يَأْذَنَ لَهُ أَوْ يَتْرُكَ صحيح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَلَا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفَأَ مَا فِي إِنَائِهَا
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : کوئی مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کی بیع میں دخل اندازی نہ کرے اور اپنے بھائی کے بھاؤ لگاتے وقت اس کے بھاؤ کو نہ بگاڑے جب تک وہ اجازت نہ دے یا چھوڑ نہ دے
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا، اور ان سے ابوہریرہ رضی ا للہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال و اسباب بیچے اور یہ کہ کوئی ( سامان خریدنے کی نیت کے بغیر دوسرے اصل خریداروں سے ) بڑھ کر بولی نہ دے۔ اسی طرح کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے میں مداخلت نہ کرے۔ کوئی شخص ( کسی عورت کو ) دوسرے کے پیغام نکاح ہوتے ہوئے اپنا پیغام نہ بھیجے۔ اور کوئی عورت اپنی کسی دینی بہن کو اس نیت سے طلاق نہ دلوائے کہ اس کے حصہ کو خود حاصل کرلے۔
تشریح :
یعنی باہر والے جو غلہ یا اشیاءباہر سے لاتے ہیں، وہ اکثر بستی والوں کے ہاتھ سستا بیچ کر گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ اب کوئی شہر والا ان کو بہکائے، اور کہے ابھی نہ بیچو، یہ مال میرے سپرد کردو، میں اس کو مہنگا بیچ دوں گا۔ تو اس سے منع فرمایا، کیوں کہ یہ بستی والوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ محض بھاؤ بگاڑنے کے لیے بولی چڑھا دیتے ہیں۔ اور ان کی نیت خریدنے کی نہیں ہوتی۔ یہ سخت گناہ ہے اپنے دوسرے بھائی کو نقصان پہنچانا ہے۔ اسی طرح ایک عورت کے لیے کسی مرد نے پیغام نکاح دیا ہے تو کوئی دوسرا اس کو پیغام نہ دے کہ ہ بھی اپنے بھائی کی حق تلفی ہے۔ اسی طرح کوئی عورت کسی شادی شدہ مرد سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس کو یہ جائز نہیں کہ اس کی پہلی موجودہ بیوی کو طلاق دلوانے کی شرط لگائے کہ یہ اس بہن کی سخت حق تلفی ہے۔ اس صورت میں وہ عورت اور مرد ہر دو گنہگار ہوں گے۔
یعنی باہر والے جو غلہ یا اشیاءباہر سے لاتے ہیں، وہ اکثر بستی والوں کے ہاتھ سستا بیچ کر گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ اب کوئی شہر والا ان کو بہکائے، اور کہے ابھی نہ بیچو، یہ مال میرے سپرد کردو، میں اس کو مہنگا بیچ دوں گا۔ تو اس سے منع فرمایا، کیوں کہ یہ بستی والوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ محض بھاؤ بگاڑنے کے لیے بولی چڑھا دیتے ہیں۔ اور ان کی نیت خریدنے کی نہیں ہوتی۔ یہ سخت گناہ ہے اپنے دوسرے بھائی کو نقصان پہنچانا ہے۔ اسی طرح ایک عورت کے لیے کسی مرد نے پیغام نکاح دیا ہے تو کوئی دوسرا اس کو پیغام نہ دے کہ ہ بھی اپنے بھائی کی حق تلفی ہے۔ اسی طرح کوئی عورت کسی شادی شدہ مرد سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس کو یہ جائز نہیں کہ اس کی پہلی موجودہ بیوی کو طلاق دلوانے کی شرط لگائے کہ یہ اس بہن کی سخت حق تلفی ہے۔ اس صورت میں وہ عورت اور مرد ہر دو گنہگار ہوں گے۔