كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ إِذَا اشْتَرَى مَتَاعًا أَوْ دَابَّةً، فَوَضَعَهُ عِنْدَ البَائِعِ أَوْ مَاتَ قَبْلَ أَنْ يُقْبَضَ صحيح حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَقَلَّ يَوْمٌ كَانَ يَأْتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا يَأْتِي فِيهِ بَيْتَ أَبِي بَكْرٍ أَحَدَ طَرَفَيْ النَّهَارِ فَلَمَّا أُذِنَ لَهُ فِي الْخُرُوجِ إِلَى الْمَدِينَةِ لَمْ يَرُعْنَا إِلَّا وَقَدْ أَتَانَا ظُهْرًا فَخُبِّرَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ مَا جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ إِلَّا لِأَمْرٍ حَدَثَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُمَا ابْنَتَايَ يَعْنِي عَائِشَةَ وَأَسْمَاءَ قَالَ أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أُذِنَ لِي فِي الْخُرُوجِ قَالَ الصُّحْبَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الصُّحْبَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عِنْدِي نَاقَتَيْنِ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ فَخُذْ إِحْدَاهُمَا قَالَ قَدْ أَخَذْتُهَا بِالثَّمَنِ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : اگر کسی شخص نے کچھ اسباب یا ایک جانور خریدا اور اس کو بائع ہی کے پاس رکھوا دیا اور وہ اسباب تلف ہو گیا یا جانور مر گیا اور ابھی مشتری نے اس پر قبضہ نہیں کیا تھا
ہم سے فروہ بن ابی مغراءنے بیان کیا، کہا کہ ہم کو علی بن مسہر نے خبردی، انہیں ہشام نے، انہیں ان کے باپ نے، اور ان سے عائشہ رضی ا للہ عنہا نے بیان کیا کہ ایسے دن ( مکی زندگی میں ) بہت ہی کم آئے، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صبح و شام میں کسی نہ کسی وقت ابوبکر رضی ا للہ عنہ کے گھر تشریف نہ لائے ہوں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کی طرف ہجرت کی اجازت دی گئی، تو ہماری گھبراہٹ کا سبب یہ ہوا کہ آپ ( معمول کے خلاف اچانک ) ظہر کے وقت ہمارے گھر تشریف لائے۔ جب حضرت ابوبکر رضی ا للہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے بھی یہی کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ہمارے یہاں کوئی نئی بات پیش آنے ہی کی وجہ سے تشریف لائے ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی ا للہ عنہ کے پاس پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت جو لوگ تمہارے پاس ہوں انہیں ہٹا دو۔ ابوبکر رضی ا للہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ! یہاں تو صرف میری یہی دو بیٹیاں ہیں یعنی عائشہ اور اسماءرضی ا للہ عنہما۔ اب آپ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم بھی ہے مجھے تو یہاں سے نکلنے کی اجازت مل گئی ہے۔ ابوبکر رضی ا للہ عنہ نے عرض کیا میرے پاس دو اونٹنیاں ہی جنہیں میں نے نکلنے ہی کے لیے تیار کر رکھا تھا۔ آپ ان میں سے ایک لے لیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، قیمت کے بدلے میں، میں نے ایک اونٹنی لے لی۔
تشریح :
حدیث سے نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اونٹنی مول لے کر ان ہی کے پاس رکھوا دی، تو باب کا یہ مطلب کہ کوئی چیز خرید کرے بائع کے پاس رکھوا دینا اس سے ثابت ہوا۔
حدیث سے نکلا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے اونٹنی مول لے کر ان ہی کے پاس رکھوا دی، تو باب کا یہ مطلب کہ کوئی چیز خرید کرے بائع کے پاس رکھوا دینا اس سے ثابت ہوا۔