كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ مَنْ رَأَى: إِذَا اشْتَرَى طَعَامًا جِزَافًا، أَنْ لاَ يَبِيعَهُ حَتَّى يُؤْوِيَهُ إِلَى رَحْلِهِ، وَالأَدَبِ فِي ذَلِكَ صحيح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّاسَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْتَاعُونَ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : جو شخص غلہ کا ڈھیر بن ناپے تولے خریدے وہ جب تک اس کو اپنے ٹھکانے نہ لائے، کسی کے ہاتھ نہ بیچے اور اس کے خلاف کرنے والے کی سزا کا بیان
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہ مجھے سالم بن عبداللہ رضی ا للہ عنہ نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عمر رضی ا للہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم کے عہد مبارک میں دیکھا کہ لوگوں کو اس پر تنبیہ کی جاتی جب وہ غلہ کا ڈھیر خرید کرکے اپنے ٹھکانے پر لانے سے پہلے ہی اس کو بیچ ڈالتے۔
تشریح :
حدیث سے نکلا کہ حاکم اسلام بیع فاسد پر سزا دے سکتا ہے۔ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ جو چیز اندازے سے بن ناپ تول خریدی جائے اس کو قبضے سے پہلے بیچ سکتا ہے۔ اس حدیث سے ان کا رد ہوتا ہے۔
حدیث سے نکلا کہ حاکم اسلام بیع فاسد پر سزا دے سکتا ہے۔ امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ جو چیز اندازے سے بن ناپ تول خریدی جائے اس کو قبضے سے پہلے بیچ سکتا ہے۔ اس حدیث سے ان کا رد ہوتا ہے۔