كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ كَرَاهِيَةِ السَّخَبِ فِي السُّوقِ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا هِلَالٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ قَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ المتَوَكِّلَ لَيْسَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَفْتَحُ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا تَابَعَهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ هِلَالٍ وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ هِلَالٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ سَلَامٍ غُلْفٌ كُلُّ شَيْءٍ فِي غِلَافٍ سَيْفٌ أَغْلَفُ وَقَوْسٌ غَلْفَاءُ وَرَجُلٌ أَغْلَفُ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَخْتُونًا- قاله ابوعبد الله-
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : بازار میں شور و غل مچانا مکروہ ہے
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، ان سے عطاءبن یسار نے کہ میں عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا اور عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفات توریت میں آئی ہیں ان کے متعلق مجھے کچھ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ! قسم خدا کی ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تورات میں بالکل بعض وہی صفات آئی ہیں جو قرآن شریف میں مذکو رہیں۔ جیسے کہ ” اے نبی ! ہم نے تمہیں گواہ، خوشخبری دینے والا، ڈرانے والا، اور ان پڑھ قوم کی حفاظت کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور میرے رسول ہو۔ میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ تم نہ بدخوہو، نہ سخت دل اور نہ بازاروں میں شور غل مچانے والے، ( اور تورات میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ) وہ ( میرا بندہ اور رسول ) برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لے گا۔ بلکہ معاف اور درگزر کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی روح قبض نہیں کرے گا جب تک ٹیڑھی شریعت کو اس سے سیدھی نہ کرالے، یعنی لوگ لا الہ الا اللہ نہ کہنے لگیں اور اس کے ذریعہ وہ اندھی آنکھوں کو بینا، بہرے کانوں کو شنوا اور پردہ پڑے ہوئے دلوں کو پردے کھول دے گا۔ اس حدیث کی متابعت عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے ہلال سے کی ہے۔ اور سعید نے بیان کیا کہ ان سے ہلال نے، ان سے عطاءنے کہ ” غلف “ ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو پردے میں ہو۔ سیف اغلف قوس غلفاءاسی سے ہے اور ” رجل اغلف “ اس شخص کو کہتے ہیں جس کا ختنہ نہ ہوا ہو۔
تشریح :
ان جملہ احادیث مرویہ میں کسی نہ کسی پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا بازاروں میں آنا جانا مذکور ہوا ہے۔ نمبر2119 میں بازاروں میں اور مسجد میں نماز باجماعت کے ثواب کے فرق کا ذکر ہے۔ حدیث نمبر2122میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بازار قینقاع میں آنا اور وہاں سے واپسی پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر جانا مذکو رہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پیار کیا، اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ الغرض بازاروں میں آنا جانا، معاملات کرنا یہ کوئی مذموم امر نہیں ہے۔ ضروریات زندگی کے لیے بہرحال ہر کسی کو بازار جائے بغیر گزارہ نہیں، حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اسی امر کا بیان کرنا ہے۔ کیوں کہ بیع کا تعلق زیادہ تر بازاروں ہی سے ہے۔ اسی سلسلے کے مزید بیانات آگے آرہے ہیں۔
ان جملہ احادیث مرویہ میں کسی نہ کسی پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا بازاروں میں آنا جانا مذکور ہوا ہے۔ نمبر2119 میں بازاروں میں اور مسجد میں نماز باجماعت کے ثواب کے فرق کا ذکر ہے۔ حدیث نمبر2122میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بازار قینقاع میں آنا اور وہاں سے واپسی پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر جانا مذکو رہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پیار کیا، اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ الغرض بازاروں میں آنا جانا، معاملات کرنا یہ کوئی مذموم امر نہیں ہے۔ ضروریات زندگی کے لیے بہرحال ہر کسی کو بازار جائے بغیر گزارہ نہیں، حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اسی امر کا بیان کرنا ہے۔ کیوں کہ بیع کا تعلق زیادہ تر بازاروں ہی سے ہے۔ اسی سلسلے کے مزید بیانات آگے آرہے ہیں۔