كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ صحيح قَالَ وَحَدَّثَنَا ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبَاعَ الطَّعَامُ إِذَا اشْتَرَاهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : بازاروں کا بیان
کہا کہ ہم سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری طرح اپنے قبضہ میں کرنے سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا۔
تشریح :
ان جملہ احادیث مرویہ میں کسی نہ کسی پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا بازاروں میں آنا جانا مذکور ہوا ہے۔ نمبر2119 میں بازاروں میں اور مسجد میں نماز باجماعت کے ثواب کے فرق کا ذکر ہے۔ حدیث نمبر2122میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بازار قینقاع میں آنا اور وہاں سے واپسی پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر جانا مذکو رہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پیار کیا، اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ الغرض بازاروں میں آنا جانا، معاملات کرنا یہ کوئی مذموم امر نہیں ہے۔ ضروریات زندگی کے لیے بہرحال ہر کسی کو بازار جائے بغیر گزارہ نہیں، حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اسی امر کا بیان کرنا ہے۔ کیوں کہ بیع کا تعلق زیادہ تر بازاروں ہی سے ہے۔ اسی سلسلے کے مزید بیانات آگے آرہے ہیں۔
ان جملہ احادیث مرویہ میں کسی نہ کسی پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کا بازاروں میں آنا جانا مذکور ہوا ہے۔ نمبر2119 میں بازاروں میں اور مسجد میں نماز باجماعت کے ثواب کے فرق کا ذکر ہے۔ حدیث نمبر2122میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بازار قینقاع میں آنا اور وہاں سے واپسی پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر پر جانا مذکو رہے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیارے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو پیار کیا، اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی۔ الغرض بازاروں میں آنا جانا، معاملات کرنا یہ کوئی مذموم امر نہیں ہے۔ ضروریات زندگی کے لیے بہرحال ہر کسی کو بازار جائے بغیر گزارہ نہیں، حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا مقصد اسی امر کا بیان کرنا ہے۔ کیوں کہ بیع کا تعلق زیادہ تر بازاروں ہی سے ہے۔ اسی سلسلے کے مزید بیانات آگے آرہے ہیں۔