‌صحيح البخاري - حدیث 2121

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ صحيح حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا رَجُلٌ بِالبَقِيعِ يَا أَبَا الْقَاسِمِ فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ أَعْنِكَ قَالَ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَكْتَنُوا بِكُنْيَتِي

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2121

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : بازاروں کا بیان ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زبیر نے بیان کیا، ان سے حمید نے، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے بقیع میں ( کسی کو ) پکارا ” اے ابوالقاسم “ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا، تو اس شخص نے کہا کہ میں نے آپ کو نہیں پکارا۔ اس دوسرے آدمی کو پکارا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے نام پر نام رکھا کرو لیکن میری کنیت نہ رکھا کرو۔
تشریح : اس حدیث کی مناسبت باب سے یہ ہے کہ اس میں آپ کے بازار جانے کا ذکر ہے یعنی بقیع میں۔ بعض نے کہا کہ اس زمانہ میں بقیع میں بھی بازار لگا کرتا تھا۔ کنیت کے بارے میں یہ حکم آپ کی حیات مبارکہ تک تھا۔ جیسا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔ اس حدیث کی مناسبت باب سے یہ ہے کہ اس میں آپ کے بازار جانے کا ذکر ہے یعنی بقیع میں۔ بعض نے کہا کہ اس زمانہ میں بقیع میں بھی بازار لگا کرتا تھا۔ کنیت کے بارے میں یہ حکم آپ کی حیات مبارکہ تک تھا۔ جیسا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔