كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ مَا ذُكِرَ فِي الأَسْوَاقِ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ أَحَدِكُمْ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ فِي سُوقِهِ وَبَيْتِهِ بِضْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً وَذَلِكَ بِأَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ أَتَى الْمَسْجِدَ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ لَا يَنْهَزُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ وَالْمَلَائِكَةُ تُصَلِّي عَلَى أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِي مُصَلَّاهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ فِيهِ مَا لَمْ يُؤْذِ فِيهِ وَقَالَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَتْ الصَّلَاةُ تَحْبِسُهُ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : بازاروں کا بیان
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جماعت کے ساتھ کسی کی نماز بازار میں یا اپنے گھر میں نماز پڑھنے سے درجوں میں کچھ اوپر بیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ کیوں کہ جب ایک شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر مسجد میں صرف نماز کے ارادہ سے آتا ہے۔ نماز کے سوا اور کوئی چیز اسے لے جانے کا باعث نہیں بنتی تو جو بھی قدم وہ اٹھاتا ہے اس سے ایک درجہ اس کا بلند ہوتا ہے یا اس کی وجہ سے ایک گناہ اس کا معاف ہوتا ہے اور جب تک ایک شخص اپنے مصلے پر بیٹھا رہتا ہے جس پر اس نے نماز پڑھی ہے تو فرشتے برابر اس کے لیے رحمت کی دعائیں یوں کرتے رہتے ہیں ” اے اللہ ! اس پر اپنی رحمتیں نازل فرما، اے اللہ اس پر رحم فرما۔ “ یہ اس وقت تک ہوتا رہتا ہے جب تک وہ وضوتوڑ کر فرشتوں کو تکلیف نہ پہنچا ئے جتنی دیر تک بھی آدمی نماز کی وجہ سے رکا رہتا ہے وہ سب نماز ہی میں شمار ہوتا ہے۔
تشریح :
حدیث ہذا میں بازاروں کا ذکر آیا۔ اور بوقت ضرورت وہاں نماز پڑھنے کا بھی ذکر آیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ اسلام میں بازاروں کا وجود قائم رکھا گیا اور وہاں آنا جانا، خرید و فروخت کرنا بھی، تاکہ امور تمدنی کو ترقی حاصل ہو، مگر بازاروں میں جھوٹ، مکر و فریب بھی لوگ بکثر ت کرتے ہیں اس لحاظ سے بازار کو بدترین زمین قرار دیا گیا، باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔
حدیث ہذا میں بازاروں کا ذکر آیا۔ اور بوقت ضرورت وہاں نماز پڑھنے کا بھی ذکر آیا۔ جس سے ثابت ہوا کہ اسلام میں بازاروں کا وجود قائم رکھا گیا اور وہاں آنا جانا، خرید و فروخت کرنا بھی، تاکہ امور تمدنی کو ترقی حاصل ہو، مگر بازاروں میں جھوٹ، مکر و فریب بھی لوگ بکثر ت کرتے ہیں اس لحاظ سے بازار کو بدترین زمین قرار دیا گیا، باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے۔