‌صحيح البخاري - حدیث 2117

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الخِدَاعِ فِي البَيْعِ صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا ذَكَرَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُخْدَعُ فِي الْبُيُوعِ فَقَالَ إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2117

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : خرید و فروخت میں دھوکہ دینا مکروہ ہے ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ علیہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن دینار نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص ( حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ وہ اکثر خرید و فروخت میں دھوکہ کھاجاتے ہیں۔ اس پر آپ نے ان سے فرمایا کہ جب تم کسی چیز کی خرید و فروخت کرو تو یوں کہہ دیا کرو کہ ” بھائی دھوکہ اور فریب کا کام نہیں۔ “
تشریح : بیہقی کی روایت میں اتنا زیادہ ہے اور جو چیز خریدے اس میں تجھے تین دن تک اختیار ہوگا۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو اسباب کی قیمت معلوم نہ ہو، اور وہ تہائی قیمت زیادہ دے یا ایک سدس تو وہ اسباب بائع کو پھیر سکتا ہے اورحنفیہ اور شافعیہ نے اس کا انکار کیا ہے۔ یہ حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ صحابی تھے، جنگ احد میں ان کے سر میں زخم آیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی عقل میں فتور آگیا۔ ( وحیدی ) بیہقی کی روایت میں اتنا زیادہ ہے اور جو چیز خریدے اس میں تجھے تین دن تک اختیار ہوگا۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث سے یہ حکم دیا ہے کہ اگر کسی شخص کو اسباب کی قیمت معلوم نہ ہو، اور وہ تہائی قیمت زیادہ دے یا ایک سدس تو وہ اسباب بائع کو پھیر سکتا ہے اورحنفیہ اور شافعیہ نے اس کا انکار کیا ہے۔ یہ حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ صحابی تھے، جنگ احد میں ان کے سر میں زخم آیا تھا، جس کی وجہ سے ان کی عقل میں فتور آگیا۔ ( وحیدی )