كِتَابُ البُيُوعِ بَابٌ صحيح قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بِعْتُ مِنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مَالًا بِالْوَادِي بِمَالٍ لَهُ بِخَيْبَرَ فَلَمَّا تَبَايَعْنَا رَجَعْتُ عَلَى عَقِبِي حَتَّى خَرَجْتُ مِنْ بَيْتِهِ خَشْيَةَ أَنْ يُرَادَّنِي الْبَيْعَ وَكَانَتْ السُّنَّةُ أَنَّ الْمُتَبَايِعَيْنِ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَلَمَّا وَجَبَ بَيْعِي وَبَيْعُهُ رَأَيْتُ أَنِّي قَدْ غَبَنْتُهُ بِأَنِّي سُقْتُهُ إِلَى أَرْضِ ثَمُودَ بِثَلَاثِ لَيَالٍ وَسَاقَنِي إِلَى الْمَدِينَةِ بِثَلَاثِ لَيَالٍ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب
ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا کہ لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمن بن خالد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ میں نے امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنی وادی قریٰ کی زمین، ان کی خیبر کی زمین کے بدلے میں بیچی تھی۔ پھر جب ہم نے بیع کر لی تو میں الٹے پاؤں ان کے گھر سے اس خیال سے باہر نکل گیا کہ کہیں وہ بیع فسخ نہ کردیں۔ کیوں کہ شریعت کا قاعدہ یہ تھا کہ بیچنے اور خریدنے والے کو ( بیع توڑنے کا ) اختیار اس وقت تک رہتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہو جائیں۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہماری خرید و فروخت پوری ہو گئی اور میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو نقصان پہنچایا ہے کیوں کہ ( اس تبادلہ کے نتیجے میں، میں نے ان کی پہلی زمین سے ) انہیں تین دن کے سفر کی دوری پر ثمود کی زمین کی طرف دھکیل دیا تھا اور انہوں نے مجھے ( میر ی مسافت کم کرکے ) مدینہ سے صرف تین دن کے سفر کی دوری پر لا چھوڑا تھا۔
تشریح :
تشریح : شروع باب میں جو دو صورتیں مذکور ہوئی ہیں ان دونوں صورتوں میں اب بائع کو فسخ بیع کا اختیار نہ رہے گا کیوں کہ اس نے مشتری کے تصرف پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ سکوت کیا، باب کی حدیث میں صرف ہبہ کا ذکر ہے، مگر اعتاق کو ہبہ پر قیاس کیا، دونوں تبرع کی قسم میں سے ہیں۔ اور ا س باب کے لانے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض یہ ہے کہ باب کی حدیث سے خیار مجلس کی نفی نہیں ہوتی۔ جس کا ثبوت اوپر ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہو چکا ہے کیوں کہ یہ خیار اس واسطے جاتا رہا کہ مشتری نے تصرف کیا اور بائع نے سکوت کیا تو اس کا سکوت مبطل خیار ہوگیا۔ ابن بطال نے کہا جو لوگ کہتے ہیں کہ بغیر تفرق ابدان کے بیع پوری نہیں ہوتی وہ مشتری کا تصرف قبل از تفرق جائز نہیں رکھتے۔ اور یہ حدیث ان پر حجت ہے۔ اب رہا قبضہ سے پہلے بیع کرنا، تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مطلقاً درست نہیں، اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک منقول کی بیع درست نہیں غیر منقول کی درست ہے۔ اور ہمارے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور اوزاعی اور اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ ناپ تول کی جو چیزیں بکتی ہیں، ان کا قبضہ سے پہلے بیچنا درست نہیں باقی چیزوں کا درست ہے۔ قسطلانی نے کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث تو ان صحیح حدیثوں کے معارض نہیں ہیں جن سے خیار مجلس ثابت ہے کیوں کہ احتمال ہے کہ عقد بیع کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تھوڑی دیر کے لیے آگے یا پیچھے بڑھ گئے ہوں، اس کے بعد ہبہ کیا ہو۔ واللہ اعلم ( وحیدی )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے وہ اونٹ لے کر اسی وقت ان کے صاحب زادے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ہبہ کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تو بیع درست ہو گئی اور خیار مجلس باقی نہ رہا۔ آخر باب میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک معاملہ کا ذکر ہے جس میں مذکوروادی قریٰ ایک بستی ہے تبوک کے قریب، یہ جگہ مدینہ سے چھ سات منزلہ پر ہے اور ثمود کی قوم کے زمانہ میں اس جگہ آبادی تھی، قسطلانی نے کہا کہ واقعہ مذکور کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ بائع اور مشتری کو اپنے ارادے سے جدا ہونا درست ہے یا بیع کا فسخ کرنا۔
تشریح : شروع باب میں جو دو صورتیں مذکور ہوئی ہیں ان دونوں صورتوں میں اب بائع کو فسخ بیع کا اختیار نہ رہے گا کیوں کہ اس نے مشتری کے تصرف پر اعتراض نہیں کیا، بلکہ سکوت کیا، باب کی حدیث میں صرف ہبہ کا ذکر ہے، مگر اعتاق کو ہبہ پر قیاس کیا، دونوں تبرع کی قسم میں سے ہیں۔ اور ا س باب کے لانے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غرض یہ ہے کہ باب کی حدیث سے خیار مجلس کی نفی نہیں ہوتی۔ جس کا ثبوت اوپر ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ہو چکا ہے کیوں کہ یہ خیار اس واسطے جاتا رہا کہ مشتری نے تصرف کیا اور بائع نے سکوت کیا تو اس کا سکوت مبطل خیار ہوگیا۔ ابن بطال نے کہا جو لوگ کہتے ہیں کہ بغیر تفرق ابدان کے بیع پوری نہیں ہوتی وہ مشتری کا تصرف قبل از تفرق جائز نہیں رکھتے۔ اور یہ حدیث ان پر حجت ہے۔ اب رہا قبضہ سے پہلے بیع کرنا، تو امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مطلقاً درست نہیں، اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک منقول کی بیع درست نہیں غیر منقول کی درست ہے۔ اور ہمارے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ اور اوزاعی اور اہل حدیث کا یہ قول ہے کہ ناپ تول کی جو چیزیں بکتی ہیں، ان کا قبضہ سے پہلے بیچنا درست نہیں باقی چیزوں کا درست ہے۔ قسطلانی نے کہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث تو ان صحیح حدیثوں کے معارض نہیں ہیں جن سے خیار مجلس ثابت ہے کیوں کہ احتمال ہے کہ عقد بیع کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تھوڑی دیر کے لیے آگے یا پیچھے بڑھ گئے ہوں، اس کے بعد ہبہ کیا ہو۔ واللہ اعلم ( وحیدی )
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے وہ اونٹ لے کر اسی وقت ان کے صاحب زادے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ہبہ کر دیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تو بیع درست ہو گئی اور خیار مجلس باقی نہ رہا۔ آخر باب میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک معاملہ کا ذکر ہے جس میں مذکوروادی قریٰ ایک بستی ہے تبوک کے قریب، یہ جگہ مدینہ سے چھ سات منزلہ پر ہے اور ثمود کی قوم کے زمانہ میں اس جگہ آبادی تھی، قسطلانی نے کہا کہ واقعہ مذکور کی باب سے مناسبت یہ ہے کہ بائع اور مشتری کو اپنے ارادے سے جدا ہونا درست ہے یا بیع کا فسخ کرنا۔