كِتَابُ البُيُوعِ بَابٌ: البَيِّعَانِ بِالخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلَّا بَيْعَ الْخِيَارِ
کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان
باب : جب تک خریدنے اور بیچنے والے جدا نہ ہوں انہیں اختیار باقی رہتا ہے
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، خریدنے اور بیچنے والے دونوں کو اس وقت تک اختیار ہوتا ہے، جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں۔ مگر بیع خیار میں۔
تشریح :
یعنی جب بائع بیع کے بعد مشتری کو اختیار دے اور وہ کہے میں بیع کو نافذ کرتا ہوں اور وہ بیع اس سے الگ ہے جس میں اختیار کی شرط پہلے ہی لگا دی گئی ہو یعنی جہاں معاملہ ہوا ہے وہاں سے سرک نہ جائیں۔ اگر وہیں رہیں یا دونوں مل کر میلوں چلتے رہیں تو اختیار باقی رہے گا، گو تین دن سے زیادہ مدت گزر جائے، بیع الخیار کی تفسیر جو ہم نے یہاں کی ہے۔ امام نووی نے اسی مطلب کی ترجیح پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی پر یقین کیا ہے۔ بعضوں نے یہ معنی کئے ہیں مگر اس بیع میں جس میں اختیار کی شرط ہو، یعنی وہاں سے جدا ہونے سے اختیار باطل نہ ہوگا بلکہ مدت مقررہ تک اختیار رہے گا۔
یعنی جب بائع بیع کے بعد مشتری کو اختیار دے اور وہ کہے میں بیع کو نافذ کرتا ہوں اور وہ بیع اس سے الگ ہے جس میں اختیار کی شرط پہلے ہی لگا دی گئی ہو یعنی جہاں معاملہ ہوا ہے وہاں سے سرک نہ جائیں۔ اگر وہیں رہیں یا دونوں مل کر میلوں چلتے رہیں تو اختیار باقی رہے گا، گو تین دن سے زیادہ مدت گزر جائے، بیع الخیار کی تفسیر جو ہم نے یہاں کی ہے۔ امام نووی نے اسی مطلب کی ترجیح پر اتفاق ظاہر کیا ہے۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی پر یقین کیا ہے۔ بعضوں نے یہ معنی کئے ہیں مگر اس بیع میں جس میں اختیار کی شرط ہو، یعنی وہاں سے جدا ہونے سے اختیار باطل نہ ہوگا بلکہ مدت مقررہ تک اختیار رہے گا۔