‌صحيح البخاري - حدیث 2100

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ بَيْعِ السِّلاَحِ فِي الفِتْنَةِ وَغَيْرِهَا صحيح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَأَعْطَاهُ يَعْنِي دِرْعًا فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2100

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : جب مسلمانوں میں آپس میں فساد نہ ہو یا ہو رہا تو ہتھیار بیچنا کیسا ہے؟ ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک نے کہا، ان سے یحییٰ بن سعید نے کہا، ان سے ابن افلح نے، ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ ہم غزوہ حنین کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک زرہ بخشی دی اور میں نے اسے بیچ دیا۔ پھر میں نے اس کی قیمت سے قبیلہ بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا۔ یہ پہلی جائیداد تھی جسے میں نے اسلام لانے کے بعد حاصل کیا۔
تشریح : اس حدیث سے ترجمہ باب کا ایک جز یعنی جب فساد نہ ہو اس وقت جنگی سامان بیچنا درست ہے، نکلتا ہے کیوں کہ زرہ بھی ہتھیار یعنی لڑائی کے سامان میں داخل ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ فساد کے زمانہ میں ہتھیار بیچنا، تو یہ بعض نے مکروہ رکھا ہے جب ان لوگوں کے ہاتھ بیچے جو فتنہ میں ناحق پر ہوں۔ اس لیے کہ یہ اعانت ہے گناہ اور معصیت پر اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا و تعاونوا علی البر و التقوی ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان ( المائدۃ : 2 ) اس جماعت کے ہاتھ جو حق پر ہو بیچنا مکروہ نہیں ہے۔ ( وحیدی ) اس حدیث سے ترجمہ باب کا ایک جز یعنی جب فساد نہ ہو اس وقت جنگی سامان بیچنا درست ہے، نکلتا ہے کیوں کہ زرہ بھی ہتھیار یعنی لڑائی کے سامان میں داخل ہیں۔ اب رہی یہ بات کہ فساد کے زمانہ میں ہتھیار بیچنا، تو یہ بعض نے مکروہ رکھا ہے جب ان لوگوں کے ہاتھ بیچے جو فتنہ میں ناحق پر ہوں۔ اس لیے کہ یہ اعانت ہے گناہ اور معصیت پر اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا و تعاونوا علی البر و التقوی ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان ( المائدۃ : 2 ) اس جماعت کے ہاتھ جو حق پر ہو بیچنا مکروہ نہیں ہے۔ ( وحیدی )