‌صحيح البخاري - حدیث 2096

كِتَابُ البُيُوعِ بَابُ شِرَاءِ الإِمَامِ الحَوَائِجَ بِنَفْسِهِ صحيح حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 2096

کتاب: خرید و فروخت کے مسائل کا بیان باب : اپنی ضرورت کی چیزیں ہر آدمی خود بھی خرید سکتا ہے ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ادھار خریدا۔ اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھوائی۔
تشریح : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود ایک یہودی سے ادھار خریدا۔ بلکہ اپنی زرہ اس کے ہاں گروی رکھ دی۔ سو یہ امر مروت کے خلاف نہیں ہے، کوئی امام ہو یا بادشاہ نبی سے کسی کا درجہ بڑا نہیں ہے۔ اپنا سودا بازار سے خود خریدنا اور خو دہی اس کو اٹھا کر لے آنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور جو اس کو برا یا عزت کے خلاف سمجھے وہ مردود و شقی ہے۔ بلکہ بہتر یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے انسان اپنا ہر کام خود ہی انجام دے تو اس کی زندگی پرسکون زندگی ہوگی۔ اسوہ حسنہ اسی کا نام ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود ایک یہودی سے ادھار خریدا۔ بلکہ اپنی زرہ اس کے ہاں گروی رکھ دی۔ سو یہ امر مروت کے خلاف نہیں ہے، کوئی امام ہو یا بادشاہ نبی سے کسی کا درجہ بڑا نہیں ہے۔ اپنا سودا بازار سے خود خریدنا اور خو دہی اس کو اٹھا کر لے آنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ اور جو اس کو برا یا عزت کے خلاف سمجھے وہ مردود و شقی ہے۔ بلکہ بہتر یہی ہے کہ جہاں تک ہو سکے انسان اپنا ہر کام خود ہی انجام دے تو اس کی زندگی پرسکون زندگی ہوگی۔ اسوہ حسنہ اسی کا نام ہے۔