کِتَابُ المُحْصَرِ بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلاَ فُسُوقَ وَلاَ جِدَالَ فِي الحَجِّ} [البقرة: 197] صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ
کتاب: محرم کے روکے جانے اور شکار کا بدلہ دینے کے بیان میں
باب : اللہ تعالیٰ کا سورۃ بقررہ میں فرمانا کہ حج میں گناہ اور جھگڑا نہ کرنا چاہئے
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے اس گھر کا حج کیا اور نہ شہوت کی فحش باتیں کیں، نہ گناہ کیا تو وہ اس دن کی طرح واپس ہوگا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔
تشریح :
باب کی حدیث میں جھگڑے کا ذکر نہیں ہے، اس کے لیے امام بخاری نے آیت پر اکتفا کیا اور فسق کی مذمت کے لیے حدیث کو نقل فرمایا، بس آیت اور حدیث ہر دو کو ملا کر آپ نے مضمون باب کو مدلل فرمایا اس سے حضرت امام رحمۃ اللہ علیہ کی دقت نظر بھی ثابت ہوتی ہے۔ صد افسوس ان لوگوں پر جو ایسے بابصیرت امام کی فقاہت اور فراست سے انکار کریں اور اس وجہ سے ان کی تنقیص کرکے گنہگار بنیں۔
باب کی حدیث میں جھگڑے کا ذکر نہیں ہے، اس کے لیے امام بخاری نے آیت پر اکتفا کیا اور فسق کی مذمت کے لیے حدیث کو نقل فرمایا، بس آیت اور حدیث ہر دو کو ملا کر آپ نے مضمون باب کو مدلل فرمایا اس سے حضرت امام رحمۃ اللہ علیہ کی دقت نظر بھی ثابت ہوتی ہے۔ صد افسوس ان لوگوں پر جو ایسے بابصیرت امام کی فقاہت اور فراست سے انکار کریں اور اس وجہ سے ان کی تنقیص کرکے گنہگار بنیں۔