كِتَابُ الحَجِّ بَابُ التَّمَتُّعِ وَالإِقْرَانِ وَالإِفْرَادِ بِالحَجِّ، وَفَسْخِ الحَجِّ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ صحيح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ وَعَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعُثْمَانُ يَنْهَى عَنْ الْمُتْعَةِ وَأَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُمَا فَلَمَّا رَأَى عَلِيٌّ أَهَلَّ بِهِمَا لَبَّيْكَ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ قَالَ مَا كُنْتُ لِأَدَعَ سُنَّةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِ أَحَدٍ
کتاب: حج کے مسائل کا بیان
باب: حج میں تمتع، قران اور افراد کا بیان۔۔۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے علی بن حسین ( حضرت زین العابدین ) نے اور ان سے مروان بن حکم نے بیان کیا کہ حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو میں نے دیکھا ہے۔ عثمان رضی اللہ عنہ حج اور عمرہ کو ایک ساتھ ادا کرنے سے روکتے تھے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے باوجود دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھا اور کہا ” لبیک بعمرۃ وحجۃ “ آپ نے فرمایا تھا کہ میں کسی ایک شخص کی بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو نہیں چھوڑ سکتا۔
تشریح :
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شاید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقلید سے تمتع کو برا سمجھتے تھے ان کو بھی یہی خیال ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو فسخ کرا کر جو حکم عمرہ کا دیا تھا وہ خاص تھا صحابہ رضی اللہ عنہ سے۔ بعضوں نے کہا مکروہ تنزیہی سمجھا اور چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ خیال حدیث کے خلاف تھا۔ اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل نہیں کیا اور یہ فرمایا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو کسی کے قول سے نہیں چھوڑسکتا۔
مسلمان بھائیو! ذرا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کو غور سے دیکھو، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت اور خلیفہ بھی کیسے؟ خلیفہ راشد اور امیرالمؤمنین۔ لیکن حدیث کے خلاف ان کا قول پھینک دیا گیا اور خود ان کے سامنے ان کا خلاف کیا گیا۔ پھر تم کو کیا ہوگیا ہے جو تم ابو حنیفہ یا شافعی کے قول کو لیے رہتے ہو اور صحیح حدیث کے خلاف ان کے قول پر عمل کرتے ہو، یہ صریح گمراہی ہے۔ خدا کے لیے اس سے باز آؤ اور ہمارا کہنا مانو ہم نے جو حق بات تھی وہ تم کو بتادی آئندہ تم کو اختیار ہے۔ تم قیامت کے دن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوگے اپنا عذر بیان کرلینا والسلام ( مولانا وحیدالزمان مرحوم )
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شاید حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تقلید سے تمتع کو برا سمجھتے تھے ان کو بھی یہی خیال ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کو فسخ کرا کر جو حکم عمرہ کا دیا تھا وہ خاص تھا صحابہ رضی اللہ عنہ سے۔ بعضوں نے کہا مکروہ تنزیہی سمجھا اور چونکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ خیال حدیث کے خلاف تھا۔ اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس پر عمل نہیں کیا اور یہ فرمایا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو کسی کے قول سے نہیں چھوڑسکتا۔
مسلمان بھائیو! ذرا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس قول کو غور سے دیکھو، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ وقت اور خلیفہ بھی کیسے؟ خلیفہ راشد اور امیرالمؤمنین۔ لیکن حدیث کے خلاف ان کا قول پھینک دیا گیا اور خود ان کے سامنے ان کا خلاف کیا گیا۔ پھر تم کو کیا ہوگیا ہے جو تم ابو حنیفہ یا شافعی کے قول کو لیے رہتے ہو اور صحیح حدیث کے خلاف ان کے قول پر عمل کرتے ہو، یہ صریح گمراہی ہے۔ خدا کے لیے اس سے باز آؤ اور ہمارا کہنا مانو ہم نے جو حق بات تھی وہ تم کو بتادی آئندہ تم کو اختیار ہے۔ تم قیامت کے دن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑے ہوگے اپنا عذر بیان کرلینا والسلام ( مولانا وحیدالزمان مرحوم )