كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ أَجْرِ الخَادِمِ إِذَا تَصَدَّقَ بِأَمْرِ صَاحِبِهِ غَيْرَ مُفْسِدٍ صحيح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَصَدَّقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ طَعَامِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُهَا وَلِزَوْجِهَا بِمَا كَسَبَ وَلِلْخَازِنِ مِثْلُ ذَلِك
کتاب: زکوٰۃ کے مسائل کا بیان
باب: خادم نوکر کا ثواب
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے اعمش سے بیان کیا‘ ان سے ابووائل نے‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بیوی اپنے خاوند کے کھانے میں سے کچھ صدقہ کرے اور اس کی نیت اسے برباد کرنے کی نہیں ہوتی تو اسے بھی اس کا ثواب ملتا ہے اور اس کے خاوند کو کمانے کا ثواب ملتا ہے۔ اسی طرح خزانچی کو بھی اس کا ثواب ملتا ہے۔
تشریح :
یعنی بیوی کی خاوند کے مال کو بیکار تباہ کرنے کی نیت نہ ہوتو اس کو بھی ثواب ملے گا۔ خادم کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ مگر بیوی اور خدمتگار میں فرق ہے۔ بیوی بغیر خاوند کی اجازت کے اس کے مال میں سے خیرات کرسکتی ہے لیکن خدمت گار ایسا نہیں کرسکتا۔ اکثر علماءکے نزدیک بیوی کو بھی اس وقت تک خاوند کے مال سے خیرات درست نہیں جب تک اجمالاً یا تفصیلاً اس نے اجازت نہ دی ہو اور امام بخاری کے نزدیک بھی یہی مختار ہے۔ بعضوں نے کہا یہ عرف اور دستور پر موقوف ہے یعنی بیوی پکا ہوا کھانا وغیرہ ایسی تھوڑی چیزیں جن کے دینے سے کوئی ناراض نہیں ہوتا‘ خیرات کرسکتی ہے گو خاوند کی اجازت نہ ملے۔
یعنی بیوی کی خاوند کے مال کو بیکار تباہ کرنے کی نیت نہ ہوتو اس کو بھی ثواب ملے گا۔ خادم کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ مگر بیوی اور خدمتگار میں فرق ہے۔ بیوی بغیر خاوند کی اجازت کے اس کے مال میں سے خیرات کرسکتی ہے لیکن خدمت گار ایسا نہیں کرسکتا۔ اکثر علماءکے نزدیک بیوی کو بھی اس وقت تک خاوند کے مال سے خیرات درست نہیں جب تک اجمالاً یا تفصیلاً اس نے اجازت نہ دی ہو اور امام بخاری کے نزدیک بھی یہی مختار ہے۔ بعضوں نے کہا یہ عرف اور دستور پر موقوف ہے یعنی بیوی پکا ہوا کھانا وغیرہ ایسی تھوڑی چیزیں جن کے دینے سے کوئی ناراض نہیں ہوتا‘ خیرات کرسکتی ہے گو خاوند کی اجازت نہ ملے۔