‌صحيح البخاري - حدیث 1211

کِتَابُ العَمَلِ فِي الصَّلاَةِ بَابُ إِذَا انْفَلَتَتْ الدَّابَّةُ فِي الصَّلاَةِ صحيح حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ كُنَّا بِالْأَهْوَازِ نُقَاتِلُ الْحَرُورِيَّةَ فَبَيْنَا أَنَا عَلَى جُرُفِ نَهَرٍ إِذَا رَجُلٌ يُصَلِّي وَإِذَا لِجَامُ دَابَّتِهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَتْ الدَّابَّةُ تُنَازِعُهُ وَجَعَلَ يَتْبَعُهَا قَالَ شُعْبَةُ هُوَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ الْخَوَارِجِ يَقُولُ اللَّهُمَّ افْعَلْ بِهَذَا الشَّيْخِ فَلَمَّا انْصَرَفَ الشَّيْخُ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ قَوْلَكُمْ وَإِنِّي غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ أَوْ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَثَمَانِيَ وَشَهِدْتُ تَيْسِيرَهُ وَإِنِّي إِنْ كُنْتُ أَنْ أُرَاجِعَ مَعَ دَابَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَدَعَهَا تَرْجِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ

ترجمہ صحیح بخاری - حدیث 1211

کتاب: نماز کے کام کے بارے میں باب: اگر آدمی نماز میں ہو اور اس کا جانور بھاگ پڑے ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ارزق بن قیس نے بیان کیا، کہا کہ ہم اہواز میں ( جو کئی بستیاں ہیں بصرہ اور ایران کے بیچ میں ) خارجیوں سے جنگ کر رہے تھے۔ ایک بار میں نہر کے کنارے بیٹھا تھا۔ اتنے میں ایک شخص ( ابو برزہ صحابی رضی اللہ عنہ ) آیا اور نماز پڑھنے لگا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ان کے گھوڑے کی لگام ان کے ہاتھ میں ہے۔ اچانک گھوڑا ان سے چھوٹ کر بھاگنے لگا۔ تو وہ بھی اس کا پیچھا کر نے لگے۔ شعبہ نے کہایہ ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک شخص کہنے لگا کہ اے اللہ!اس شیخ کا ناس کر۔ جب وہ شیخ واپس لوٹے تو فرمایا کہ میں نے تمہاری باتیں سن لی ہیں اور ( تم کیا چیز ہو؟ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چھ یا سات یا آٹھ جہادوں میں شرکت کی ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آسانیوں کو دیکھا ہے۔ اس لیے مجھے یہ اچھا معلوم ہو اکہ اپنا گھوڑا ساتھ لے کر لوٹوں نہ کہ اس کوچھوڑدوں وہ جہاں چاہے چل دے اور میں تکلیف اٹھاؤں۔