الادب المفرد - حدیث 991

كِتَابُ بَابُ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيْهِ إِذَا لَقِيَهُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ)) ، قِيلَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: ((إِذَا لَقِيتُهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ، وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ، وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ، وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتْهُ، وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ، وَإِذَا مَاتَ فَاصْحَبْهُ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 991

کتاب مسلمان کا مسلمان پر حق ہے کہ وہ اسے ملاقات کے وقت سلام کرے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’مسلمان کے مسلمان پر چھ حق ہیں۔‘‘ عرض کیا گیا:وہ کون کون سے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم اسے ملو تو سلام کہو اور جب وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو، اور جب تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کرو، جب اسے چھینک آئے اور وہ الحمد للہ کہے تو اسے (یرحمک اللّٰه کے ساتھ)جواب دو۔ جب وہ بیمار ہو جائے تو اس کی تیمار داری کرو اور جب وہ فوت ہو جائے تو (قبرستان تک)اس کے ساتھ جاؤ، یعنی جنازہ پڑھو۔‘‘
تشریح : سلام کا جواب دینا ان حقوق میں سے ہے جن کو ادا نہ کرنے پر باز پرس ہوگی۔ اس لیے اس میں غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ دیگر حقوق کے متعلق بحث گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے۔
تخریج : صحیح:صحیح مسلم، السلام، ح:۲۱۶۹۔ سلام کا جواب دینا ان حقوق میں سے ہے جن کو ادا نہ کرنے پر باز پرس ہوگی۔ اس لیے اس میں غفلت نہیں برتنی چاہیے۔ دیگر حقوق کے متعلق بحث گزشتہ اوراق میں گزر چکی ہے۔