الادب المفرد - حدیث 951

كِتَابُ بَابُ إِذَا تَثَاءَبَ فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنًا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُحَدِّثُ أَبِي، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ عَلَى فِيهِ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُهُ)) حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ: حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ بِيَدِهِ فَمَهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُهُ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 951

کتاب جب جماہی آئے تو ہاتھ اپنے منہ پر رکھنا سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنے منہ کو بند کرلے کیونکہ شیطان اس میں داخل ہو جاتا ہے۔‘‘ ....ایک دوسرے طریق سے سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم میں سے کسی کو جماہی آئے تو اپنے ہاتھ سے منہ کو بند کرے کیونکہ شیطان اس میں داخل ہوجاتا ہے۔‘‘
تشریح : ان روایات سے معلوم ہوا جماہی شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان جماہی لیتے وقت انسان کے منہ میں داخل ہو جاتا ہے اور انسان میں مزید سستی اور کاہلی پیدا کرتا ہے اور اپنے اثرات بھی ظاہر کرتا ہے اس لیے جماہی کو روکنے کے ساتھ ساتھ منہ کو ہاتھ یا کپڑے وغیرہ سے بند بھی کرنا چاہیے۔
تخریج : صحیح:صحیح مسلم، الزهد والرقائق، ح:۲۹۹۵۔ ان روایات سے معلوم ہوا جماہی شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان جماہی لیتے وقت انسان کے منہ میں داخل ہو جاتا ہے اور انسان میں مزید سستی اور کاہلی پیدا کرتا ہے اور اپنے اثرات بھی ظاہر کرتا ہے اس لیے جماہی کو روکنے کے ساتھ ساتھ منہ کو ہاتھ یا کپڑے وغیرہ سے بند بھی کرنا چاہیے۔