الادب المفرد - حدیث 913

كِتَابُ بَابُ الْفَأْلِ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((لَا عَدْوَى، وَلَا طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الصَّالِحُ، الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 913

کتاب نیک فال لینے کا بیان حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں (آپ نے فرمایا:)بیماری متعدی ہونے اور بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں اور مجھے تو نیک فال، یعنی اچھا کلمہ سن کر نیک شگون لینا، پسند ہے۔‘‘
تشریح : (۱)کوئی بیماری از خود متعدی نہیں ورنہ پہلے کو بیماری کس نے لگائی ہے۔ جراثیم کا منتقل ہونا اللہ تعالیٰ کے حکم پر موقوف ہے، از خود ان میں یہ تأثیر نہیں۔ بسا اوقات ساتھ رہنے والا محفوظ رہتا ہے اور دور والا متأثر ہو جاتا ہے۔ تاہم وہم سے بچنے کے لیے ایسے مریضوں سے دور رہنے کا حکم ہے تاکہ عقیدہ خراب نہ ہو۔ (۲) بری چیز یا برا کلمہ سن کر دل میں وہم پیدا ہونا فطری بات ہے، تاہم اس وجہ سے اپنے کام سے رکنا مسلمان کے لیے ناجائز ہے۔ البتہ اچھا کلمہ سن کر نیک شگون لینا پسندیدہ امر ہے بشرطیکہ وہ سفر یا کام جائز اور مباح ہو۔ اگر سفر نافرمانی کا ہے یا کام حرام ہے تو وہ اچھا کلمہ شیطان کی طرف سے ہوگا۔
تخریج : صحیح:أخرجه البخاري، کتاب الطب، باب الفال:۵۷۵۶۔ ومسلم:۲۲۲۴۔ وأبي داود:۳۹۱۶۔ والترمذي:۱۶۱۵۔ وابن ماجة:۳۵۳۷۔ (۱)کوئی بیماری از خود متعدی نہیں ورنہ پہلے کو بیماری کس نے لگائی ہے۔ جراثیم کا منتقل ہونا اللہ تعالیٰ کے حکم پر موقوف ہے، از خود ان میں یہ تأثیر نہیں۔ بسا اوقات ساتھ رہنے والا محفوظ رہتا ہے اور دور والا متأثر ہو جاتا ہے۔ تاہم وہم سے بچنے کے لیے ایسے مریضوں سے دور رہنے کا حکم ہے تاکہ عقیدہ خراب نہ ہو۔ (۲) بری چیز یا برا کلمہ سن کر دل میں وہم پیدا ہونا فطری بات ہے، تاہم اس وجہ سے اپنے کام سے رکنا مسلمان کے لیے ناجائز ہے۔ البتہ اچھا کلمہ سن کر نیک شگون لینا پسندیدہ امر ہے بشرطیکہ وہ سفر یا کام جائز اور مباح ہو۔ اگر سفر نافرمانی کا ہے یا کام حرام ہے تو وہ اچھا کلمہ شیطان کی طرف سے ہوگا۔