الادب المفرد - حدیث 874

كِتَابُ بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنَ الشِّعْرِ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ جُرْمًا إِنْسَانٌ شَاعِرٌ يَهْجُو الْقَبِيلَةَ مِنْ أَسْرِهَا، وَرَجُلٌ انْتَفَى مِنْ أَبِيهِ))

ترجمہ الادب المفرد - حدیث 874

کتاب ناپسندیدہ شعروں کا بیان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا:’’لوگوں میں سب سے بڑا گنہگار اور مجرم وہ شاعر ہے جو پورے قبیلے کی مذمت کرتا ہے اور دوسرا وہ ہے جو اپنے باپ سے اپنے نسب کی نفي کرتا ہے۔‘‘
تشریح : ایسے شعر ناپسندیدہ ہیں جن میں پورے قبیلے کی ہجو کی گئی ہو کیونکہ قبیلے کے تمام لوگ تو برے نہیں ہوتے۔ کسی برے فرد کی ہجو تو جائز ہے لیکن پورے قبیلے کی مذمت ہرگز درست نہیں۔ اسی طرح اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ عصر حاضر میں لے پالک کا جو رواج ہے، اسے شریعت نے ختم کر دیا ہے۔ اگر کوئی کسی بچے کی پرورش کرتا بھی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس کے حقیقی باپ کے نام سے پکارا جائے۔
تخریج : صحیح:أخرجه ابن ماجة، کتاب الأدب:۳۷۶۱۔ أخرجه البیهقي:۱۰؍ ۲۴۱۔ من حدیث شیبان به، وصححه ابن حبان:۲۰۱۴۔ ایسے شعر ناپسندیدہ ہیں جن میں پورے قبیلے کی ہجو کی گئی ہو کیونکہ قبیلے کے تمام لوگ تو برے نہیں ہوتے۔ کسی برے فرد کی ہجو تو جائز ہے لیکن پورے قبیلے کی مذمت ہرگز درست نہیں۔ اسی طرح اپنے باپ کے علاوہ کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا بھی کبیرہ گناہ ہے۔ عصر حاضر میں لے پالک کا جو رواج ہے، اسے شریعت نے ختم کر دیا ہے۔ اگر کوئی کسی بچے کی پرورش کرتا بھی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس کے حقیقی باپ کے نام سے پکارا جائے۔